Mittwoch, 13. Juli 2011

پسلی کی ٹیڑھ

پسلی کی ٹیڑھ
مبارکہ

پھول تھا وہ تو میں خوشبو بن کے اس میں جذب تھا
وہ    بنا    خوشبو  تو    میں   بادِ صبا    ہوتا    گیا

۔۔۔۔بیوی۔۔بالخصوص زندہ بیوی کا خاکہ لکھنااپنی خیریت کو داؤپر لگانے اور شیر بلکہ شیرنی کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔بہرحال میں اقرار کرتاہوں کہ جو کچھ لکھوں گا سچ سچ لکھوں گا۔ سچ کے سوا کچھ نہ لکھوں گا۔ اللہ میری حفاظت فرمائے۔(آمین)
۔۔۔۔مبارکہ میری ماموں زاد ہے۔ میں غالباً چھ سال کاتھا، مبارکہ دو سال کی تھی۔ ہمارے بیشتر رشتہ دار ایک خاندان کی طرح رہتے تھے۔ کسی تقریب کے باعث اوربہت سارے عزیز بھی جمع تھے۔ بڑی ممانی نے لاڈسے پوچھافلاں سے شادی کروگے؟ میں نے صاف انکار کردیا۔ پھر پوچھاگیا کس سے شادی کروگے؟۔ ۔ میں نے بڑے اعتماد کے ساتھ مبارکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہااس کے ساتھ کرو ں گا۔ شاید بڑی ممانی کو میری پسند پر کوئی اعتراض تھایااپنی تجویز رد کئے جانے کا افسوس، فوراً بولیں: ’’ہم ریاستیوں (سرائیکیوں) کو ایک رشتہ دے کر ہی بھولے ہیں۔ اور کسی ریاستی کو اب رشتہ نہیں دینا‘‘۔۔ اس کا جواب مجھے اپنی یادداشت میں کہیں نہیں ملتا البتہ خاندان میں بڑی مستحکم روایت موجودہے کہ میں نے جواباًکہاتھا: اگر آپ مبارکہ سے شادی نہیں کروگے تو جب یہ روٹیاں پکارہی ہوگی جیپ لے کر آؤں گا اور اسے اس میں بٹھاکرلے جاؤں گا۔۔ ماموں ناصر جوپاس ہی بیٹھے تھے، میرا جواب سن کر بڑی ملائمت سے بولے: بیٹا!تم شرافت سے آنا میں خود ہی تمہیں بیٹی دے دوں گا۔
۔۔۔۔بچپن میں غیرشعوری اور غیر ارادی طورپر کہی ہوئی مذاق کی ایک بات اتنی سنجیدگی اختیارکرگئی کہ اب وہ سارا مذاق وجدانی معلوم ہوتاہے۔ممانی مجیدہ فوت ہوگئیں تو ماموں ناصر کے لئے بچوں کو سنبھالنا مسئلہ بن گیا۔ انہوں نے اپنے بیان کے مطابق خود ہی رشتے کا انتظام کردیا۔ یعنی اس زبانی مذاق کے ٹھیک بارہ سال بعد ہمارے ساتھ عملی مذاق ہوگیا۔ میں اٹھارہ سال کاتھا، مبارکہ چودہ سال کی تھی جب ہماری شادی ہوگئی۔ ہماری شادی کیاتھی گڈی، گڈے کابیاہ تھا۔مجھے کچھ پتہ نہ اسے کچھ خبر! بے خبری کے عالم میں ولیمہ بھی ہوگیا۔ کئی دن گزرگئے اور ہم بے خبری کی جنت میں سوتے رہے۔ پھر یکایک، از خود آگہی کا کوندالپکا۔ او رپھر ہم پتوں سے اپنے تن ڈھانپنے لگے۔ آدم اور حوا کی کہانی آگے بڑھنے لگی۔
۔۔۔۔بچپن کے اس واقعہ کے حوالے سے میں نے ایک دفعہ مبارکہ سے کہا: بچپن کی معمولی غلطی کی کتنی بڑی سزاملی ہے۔۔ اس نے فوراً کہا: غلطی آپ کی تھی، سزا میں بھگت رہی ہوں۔۔ خیربات ہورہی تھی آدم اور حواکی کہانی کی۔ اس کہانی میں اتوار کے دن کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ میں اتوارکے دن پیداہوا، مبارکہ بھی اتوارکے دن پیداہوئی، ہمارانکاح بھی اتوارکے دن ہوا۔ پہلی بیٹی رضوانہ اتوارکے دن پیداہوئی۔ پہلا بیٹا شعیب اتوار کے دن پیداہوا۔ آخر حکومت پاکستان نے تنگ آکر اتوار کی سرکاری چھٹی ختم کردی اور چھٹی کے لئے جمعہ کادن مقررکردیا۔
۔۔۔۔لڑکپن کے دو سال ہم نے اکٹھے گزارے تھے۔ پتہ نہیں یہ بچپن کی نامزدگی اور لڑکپن کی انڈرسٹینڈنگ تھی یا کچھ اور۔۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے مزاج شناس بن گئے۔ پھر بات مزاج شناسی سے بڑھ کر محبت اور دوستی کی سطح تک پہنچی اور وہاں سے بھی آگے بڑھی تو اس مقام کے بیان کے لئے کوئی لفظ نہیں ملا۔ بیوی، دوستی اور محبت۔۔ یہ سارے مقدس رشتے اب مبارکہ کے سامنے چھوٹے پڑگئے ہیں۔ (خدا کرے مبارکہ پر اس جملے کا کچھ اثر ہو)
۔۔۔۔میں نے کتابی سلسلہ ’’جدید ادب‘‘ جاری کیا۔ اس میں مبارکہ کی تمناؤں کالہوشامل تھا۔ ہر شمارے کے ساتھ اس کا ایک آدھ زیوربک جاتا۔ اس اللہ کی بندی نے ایک دفعہ بھی تکرار نہیں کی۔جب تک ا س کازیورساتھ دیتارہا ’’جدید ادب‘‘ جاری رہا۔ زیور ختم ہوگئے تو ’’جدید ادب‘‘ بھی بندہوگیا۔اب سوچتاہوں میں نے اس کے ساتھ ظلم کیاہے۔ لیکن مبارکہ نے بھی تو میرے ساتھ ظلم کیاہے۔ میرے اچھے برے ہر طرح کے کاموں میں ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ کسی نازک موڑ پر آکر اگر ساتھ دینا ممکن نہیں رہاتو اس نے کنارے پر کھڑے ہوکر نظارہ کیامگر مجھے دباؤ ڈال کر روکنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے اس طرز عمل نے میری عادتیں بگاڑدی ہیں۔ میری ’’گمراہیاں‘‘ اسے معلوم ہیں میرے’’ گناہ‘‘ اس کے علم میں ہیں لیکن مجال ہے اس نے کبھی مجھے شرمندگی کا ہلکاسااحساس بھی دلایاہو۔
۔۔۔۔امی جی اور مبارکہ میں گہری انڈرسٹینڈنگ تھی۔ ساس بہو میں کبھی کبھی بدمزگی بھی ہوتی مگر ایسی نہیں جس میں اباجی کو یامجھے مداخلت کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ جلدہی ساس، بہو کی جگہ پھوپھی، بھتیجی آگے آجاتیں اور خود ہی سارا معاملہ سنبھال لیتیں۔ آخر دم تک امی جی اور مبارکہ ایک ساتھ رہیں، صرف ایک سال کا عرصہ دونوں کو الگ رہناپڑا کیونکہ خانپور چھوڑکراباجی اورامی جی نے بالائی پنجاب میں سکونت اختیارکرلی تھی اور ملازمت کے باعث ہم شوگرملز کی کالونی میں شفٹ ہوگئے تھے۔ اس ایک سال کے عرصہ میں بھی مبارکہ، امی جی سے ملنے کے لئے دودفعہ گئی۔۔ اسی دوران اباجی وفات پاگئے۔ شدید صدمے کااثر زائل ہونے لگاتوسارے عزیز اپنے اپنے ٹھکانوں کولوٹنے لگے۔ اکبر اور طاہر بھی امی جی سے اجازت لئے بغیر اپنی بیگمات کے ساتھ رخصت ہوگئے۔ جاتے جاتے امی سے اتنا کہہ گئے کہ عدت پوری کرکے ہمارے ہاں آجائیے گا۔ مبارکہ جانتی تھی کہ امی جی اس طرح تو کسی بیٹے کے پاس بھی نہیں جائیں گی۔ اس نے مجھے الگ کرکے سارے صورتحال سے آگاہ کرکے کہا میں ایسی حالت میں پھوپھی کو اکیلے نہیں چھوڑسکتی۔ آپ جاکر بچوں کے سکول چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ بھجوادیں۔ میں اب پھوپھی کے پاس ہی رہوں گی۔ چنانچہ پھر مبارکہ اور بچے امی جی کے پاس ہی رک گئے۔
۔۔۔۔میں نے کہیں پڑھاتھاکہ میاں بیوی میں محبت بہت زیادہ ہو تو دونوں کی شباہت یکساں ہوجاتی ہے۔ فیض اور ایلس کی تصویریں دیکھ کر یہ بات سچ معلوم ہونے لگتی ہے۔ میرا خیال ہے میری اور مبارکہ کی شکلوں میں بھی کچھ ایسا تغیر رونما ہورہاہے۔ ’’من توشدم تو من شدی‘‘ کی حد تک تو محبت ٹھیک تھی لیکن جب ا س مقام سے آگے بڑھی تو پھر دونوں کی شکلیں بگڑنے لگیں اور بگڑتے بگڑتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ ’’تم رہے نہ تم ہم رہے نہ ہم‘‘۔۔۔۔۔۔ 
اچھی بھلی شکلیں بگڑ گئیں مگر ہماری محبت کی شدت توثابت ہوگئی۔
۔۔۔۔میں اپنی فکر ی آزادہ روی کے باعث مبارکہ کے لئے بہت تکلیف کے سامان پیداکربیٹھا۔ مذہبی تعصّب رکھنے والے عزیزوں نے طوفان اٹھالیا۔ مبارکہ دوہرے عذاب میں تھی۔اپنی سوسائٹی کو چھوڑنا بھی اس کے لئے ممکن نہیں تھا اور مجھ سے علیحدگی کابھی وہ سوچ نہیں سکتی تھی۔ میرا خیال ہے انسان کی مظلومیت بجائے خود ایک طرح کا مقام ولایت ہے۔ مبارکہ مظلومیت کی حالت میں تھی۔ محلے کی ایک پردھان عورت نے کہا: مبارکہ کوحیدر سے طلاق لے لینی چاہئے۔۔ چندماہ کے اندر اسی عورت کی اپنی نوبیاہتا لیڈی ڈاکٹر بیٹی کو طلاق ہوگئی۔ ہمارے ایک ’’بزرگ‘‘ نے امریکہ سے دباؤ ڈالا اور میرے ساتھ مبارکہ کے سماجی بائیکاٹ کا حکم صادرکردیا۔ حکم نامے کے ایک ماہ کے اندر ان کے اپنے خاندان میں بیٹے بہو میں پھوٹ پڑگئی جو بالآخر دونوں میں علیحدگی پر منبتح ہوئی۔ اسے مکافاتِ عمل کہئے۔ نظامِ فطرت کہئے یا مظلوم پر جبر کا انجام۔ رہے نام اللہ کا!
۔۔۔۔مبارکہ صاف دل اور صاف گو عورت ہے۔ محبتی بیوی اور بے تکلف ماں ہے۔ رضوانہ کو دیکھ کر عام طورپر ناواقف خواتین یہی سمجھتی ہیں کہ مبارکہ کی چھوٹی بہن یانند ہوگی مگر جب انہیں معلوم ہوتاہے کہ یہ اس کی بڑی بیٹی ہے تو حیران ہوتی ہیں ۔ماں بیٹی میں صرف ساڑھے سولہ سال کا فرق ہے جبکہ میرے سب سے چھوٹے بھائی اعجاز اور میری عمر میں انیس سال کافرق ہے۔ (پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا انکار کروگے)۔ اپنے پانچوں بچوں رضوانہ، شعیب، عثمان، طارق اور درِّ ثمین کے ساتھ مبارکہ نے دوستی کررکھی ہے۔ ماں والی دھونس نہیں جماتی البتہ دوستانہ دھونس ضرور جمالیتی ہے۔
۔۔۔۔کسی کی شادی ہو۔۔مبارکہ شادی بیاہ کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ جب لڑکی کی رخصتی کا وقت آتاہے دلہن سے زیادہ اس کے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں۔ میں اس کی اس رقیق القلبی سے خاصا تنگ تھا۔ خدا بھلاکرے ماموں سمیع کی بڑی بیٹی نوشی کا۔۔ نوشی کی رخصتی ہونے لگی تو ممانی راشدہ پرسکون تھیں۔ چھوٹی بہنیں مطمئن ۔مگرا ن کی کزن مبارکہ بیگم حسب معمول روروکر ہلکان ہورہی تھی۔ اتفاق سے میری نظر نوشی کی طرف اٹھ گئی۔ دولہا کے ساتھ گھر سے باہرآتے ہوئے بی بی مسکرارہی تھی۔۔ گاڑیاں رخصت ہوتے ہی میں نے مبارکہ بیگم کوپکڑلیا۔ یہ کیا شرافت ہے۔ جس کی شادی ہے وہ مسکرارہی ہے۔ اس کی ماں بہنوں کے چہروں پر اطمینان ہے اور آنجناب روروکر ہلکان ہورہی ہیں۔ اللہ اس کا بھلاکرے کہ تب سے اس نے شادی بیاہوں پر رونے دھونے کا سلسلہ فی الحال ترک کردیاہے۔ (فی الحال اس لئے کہ اپنی بیٹیوں کی شادی پر وہ ساری کسر نکالے گی*)
۔۔۔مبارکہ کو مشرقی پنجاب سے غائبانہ انسیت ہے۔ اس کی ظاہروجہ تو یہ ہے کہ قیام پاکستان کے کئی برس بعد ممانی مجیدہ ہندوستان گئیں تو وہیں مبارکہ کی پیدائش ہوگئی۔ ممانی مجیدہ سے ہی اسے معلوم ہواکہ اس کی زچگی کرانے والی خاتون کانام پیاری دیوی تھا۔ سواسے مشرقی پنجاب سے بھی ایک لگاؤ ہے اور ’’پیاری دیوی‘‘ نام بھی بہت پیارا لگتاہے۔ ا س انسیت کی بعض لاشعوری وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔مثلاً مبارکہ کے ددھیال، ننھیال سب مشرقی پنجاب سے پاکستان آئے تھے اور کئی جانوں کانذرانہ دے کرپاکستان پہنچ پائے تھے۔ ہوسکتاہے آباؤ اجداد کی سرزمین سے اسے لاشعوری طورپرمحبت ہو۔ پھر مبارکہ ذات کے لحاظ سے باجوہ جٹ ہے جوپنجابی جٹوں کی ایک اعلیٰ ذات ہے۔ پانچویں چھٹی پشت سے یہ لوگ سکھ تھے۔ اب جومشرقی پنجاب میں سکھوں کی تحریک چل رہی ہے ممکن ہے مبارکہ کے اندر کی چھپی ہوئی سکھنی کو مشرقی پنجاب کی موجودہ حالت کے باعث بھی اس علاقے سے انسیت محسوس ہوتی ہو۔ ۱۹۸۷ء میں ہم بھارت گئے تو مبارکہ کی شدید خواہش تھی کہ مشرقی پنجاب کے علاقے دیکھے جائیں مگر دہلی میں بعض دوستوں نے سمجھایاکہ وہاں کے حالات بے حد خراب ہیں۔ ایک دوست نے کہا ویزہ میں کل لگوادیتاہوں مگر آپ لوگوں کو ادھر جانے نہیں دوں گا۔دراصل انہیں دنوں میں پنجاب میں ایک بس روک کر اس کے تمام مسافروں کو بغیر کسی تخصیص کے ہلاک کردیاگیاتھا۔ اسی وجہ سے دلی کے دوستوں نے ہمیں مشرقی پنجاب نہیں جانے دیااور اس علاقے کو دیکھنے کی مبارکہ کی آرزو پوری نہ ہوسکی۔
۔۔۔۔میری شاعری کو اس کے پورے پس منظر کے ساتھ جاننے والی واحدقاری مبارکہ ہے۔ اسے علم ہے کہ میری کون سی غزل یا نظم کب کہی گئی اور کیوں کہی گئی۔۔ اسے یہ بھی علم ہے کہ میں کس کس کویہ باورکراچکاہوں کہ فلاں غزل درحقیقت آپ کے لئے کہی گئی او ریہ بھی علم ہے کہ اصلاً کس کے لئے کہی گئی۔ میری شاعری سے باہر کے اس سارے کھیل تماشے کو مبارکہ نے مزے لے کردیکھاہے۔ میری دوستوں سے اس نے کبھی خارنہیں کھائی، الٹا محبت کی۔
۔۔۔۔ایک دفعہ میری ایک بہت اچھی دوست نے مبارکہ کی موجودگی میں بتایاکہ ہاتھ کی لکیریں دیکھنے والے ایک ماہر نے بتایاہے کہ تمہاری شادی کسی میرڈ Married سے ہوگی۔کوئی اور شاعر ہوتاتواس کی بیوی نے جوطوفان اٹھایاہوتااس کی لہریں اخبارات کے ادبی ایڈیشنوں تک پہنچتیں مگر مبارکہ نے زوردار قہقہے میں ساری بات اڑادی۔ ایک دفعہ بعض عزیزوں نے اسے سمجھایاکہ مردکااتنااعتبارکرنا بھی ٹھیک نہیں ہوتا(گویا تھوڑابہت شک کرتے رہناچاہیے) مگر مبارکہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ جھلاکر ایک عزیز نے یہاں تک کہہ دیا: اب تمہاری آنکھیں اسی وقت کھلیں گی جب وہ بچوں سے بھراٹوکرالے کر گھر آئے گا۔ کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتاہے مبارکہ کے اندروہی دوسال کی بچی بیٹھی ہے جسے دیکھ کر میں نے کہاتھااسی کے ساتھ شادی کروں گا۔ معصوم، بھالی بھالی ایسے کبوتر(بلکہ کبوتری)کی طرح جو بلّی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلے اور خود کو محفوظ سمجھ لے۔مگر نہیں۔۔ مبارکہ نے توآنکھیں بھی ہمیشہ کھلی رکھی ہیں اور بلیو ں کو دیکھ کر بھی خود کو محفوظ سمجھتی رہی ہے۔ قدرت خداکی۔ ہر خطرے سے محفوظ بھی گزرجاتی رہی ہے۔ہرچند اس میں خدا کی قدرت کے ساتھ میری شرافت کا بھی دخل ہے۔
ایک دفعہ میں نے مبارکہ سے پوچھا: تمہیں مجھ پر اتنااعتمادکیوں ہے؟
’’اعتماد‘‘؟۔۔مبارکہ نے حیرت سے کہااو رپھر رواں ہوگئی ’’تمہارے ساتھ شادی کون کرے گی؟ کس کا دماغ خراب ہے؟شکر کروکہ میں مل گئی ہوں اور وہ بھی اس لئے کہ تمہارے ماموں کی بیٹی ہوں‘‘
ان جملوں سے ہمارے درمیان پائی جانے والی (یک طرفہ) بے تکلفی کااندازہ کیاجاسکتاہے۔اس سے زیادہ مبارکہ کے بارے میں لکھنے کی جرأت نہیں۔ اس خاکے کا دوسرا حصہ مبارکہ کی وفات کے بعد لکھوں یا میری وفات کے بعد وہ لکھے گی۔
***
*رضوانہ کی شادی پر ساری کسر نکال دی ہے۔ جزاک اللہ

اُجلے دل والا

اُجلے دل والا
چھوٹا بھائی

لڑائی جھگڑا تو حیدر ؔ نہ تھا مزاج ان کا
وہ گھونٹ زہر کے بس پی کے رہ گئے ہوں گے

۔۔۔۔وہ پڑھائی میں تھوڑا کمزور تھا۔ رہی سہی کسر کلاس ٹیچر نے پوری کردی۔ سبق نہیں سناسکاتو بچے کے مذہبی فرقے کے حوالے سے اس پر تضحیک آمیز طنز کردیا۔ گھریلوتنگ دستی کے باعث کبھی فیس بروقت ادانہیں ہوسکی یا کوئی کاپی نہیں خریدی جاسکی تو اس کی سزا یہی ہوتی کہ اسے اس کے فرقے کے نام پر گالی دے دی جاتی۔ ایسے سفّاک اور نفرت انگیز تعلیمی ماحول میں اس بچے نے کلاس ٹیچر کی کلاسز مس کرنا شروع کردیں پھر سکول سے بھی غائب رہنے لگا۔ ایک طرف اسے کلاس میں کلاس ٹیچر کے اذیت ناک جملوں کاخوف تھا تو دوسری طرف اس بات کاڈرکہ اگر اباجی کو سکول سے غائب ہونے کاعلم ہوگیاتو مرمت ہوجائے گی۔ چنانچہ اس نے اپنے کھیلنے کے چند ٹھکانے بنالئے جہاں وہ دوسرے لڑکوں کے ساتھ گولیاں اور اخروٹ کھیلتا۔ اسکول میں چھٹی کا وقت ہوتا تو گھرآجاتا۔تاہم سکول سے مستقل طورپر غیر حاضر نہیں رہاتاکہ نام خارج نہ ہونے پائے۔ ایسی صورتحال میں اس نے پتہ نہیں کیسے آٹھویں جماعت کاامتحان پاس کرلیا۔ آٹھویں پاس کرتے ہی اس نے والدین سے صاف صاف کہہ دیاکہ وہ ایسے تعلیمی ماحول میں مزید علم حاصل کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ شاید ایسے پڑھے لکھے معاشرے میں اسے اپنااَن پڑھ رہنازیادہ بہتر لگا۔ والدین سے صلاح مشورے کے بعد چودہ سال کے اس دبلے پتلے سانولے سے لڑکے نے اپنے شہرکوچھوڑ کرکراچی کی راہ لی۔ چھوٹی موٹی مزدوری سے کام کاآغاز کیا۔ابتدائی ایک مہینہ خالہ کے ہاں قیام کیا۔ جیسے ہی پہلی تنخواہ ملی اس نے اپنی الگ رہائش کاانتظام کرلیا۔ متعصّب معاشرے کی سفاکی کا شکارہونے والایہ چودہ سالہ لڑکامیرے ماں باپ کا منجھلابیٹااورمیرا چھوٹا بھائی طاہرہے۔
۔۔۔۔کہتے ہیں انسان کے دست و بازو اس کے بھائی ہوتے ہیں۔ ہم پانچ بھائی ہیں۔ پانچوں اپنی اپنی جگہ بے دست وپا۔۔ میں نے پندرہ برس کی عمر میں ملازمت کرلی تھی محض اس خیال سے کہ والدین کابوجھ ہلکاکرسکوں۔۔ چنانچہ ابتدائی محدود دائرے میں جتناہوسکا والدین کی خدمت کرنے کی کوشش کی۔ ایک دفعہ ایک بھائی نے (جو اُس وقت پیداہواتھا جب میں نے شوگر ملز کی نوکری شروع کی تھی) آپی سے گفتگو کے دوران میرے ذکرپر بڑے تلخ لہجے میں کہاکہ : ہم پر کسی نے کوئی احسان نہیں کیا۔ ہم نے اپنے ماں باپ کاکھایا ہے۔۔ مجھے اس بات کا پتہ چلاتو بے حد شرمندگی ہوئی۔ میں نے تو احسان جتایاہی نہیں تھابس والدین کی خدمت کرنے کی ایک تمنا تھی، قدرت نے ان کے جیتے جی اتنادیاہی نہیں کہ ڈھنگ سے ان کی خدمت کرسکتا۔ خیربات یہ ہورہی تھی کہ انسان کے دست و بازو اس کے بھائی ہوتے ہیں۔ میرے چار چھوٹے بھائی ہیں۔ ایک نے کوشش کی کہ میرے بازو کاٹ ڈالے دوسرے نے زورلگایاکہ میرے پیر باندھ دے۔ ڈھیٹ آدمی ہوں اس لیے سخت وار ہونے کے باوجود بچ نکلا ہوں۔ طاہر اور اعجاز دونوں بھائیوں کی مہربانی ہے کہ وہ اس کھیل تماشے میں غیر جانبدار رہے۔ میں ان کی غیر جانبداری کو بھی اپنی حمایت اور خود پر احسان مانتاہوں۔۔ طاہر کو اس لحاظ سے میں خود سے بڑا سمجھتاہوں کہ اس نے چودہ سال کی عمر میں ملازمت کرکے میرا کم عمری میں نوکری کرنے کا ریکارڈ توڑدیا۔
۔۔۔۔طاہر بیس سال کاہوچکاتھالیکن وہ مجھے اس وقت پانچ چھ سال کابچہ دکھائی دیا۔۔ اس عمرمیں ہمارے خانپورکے ماحول میں ریوڑیاں، چنے، ڈرکو، اور میٹھی گولیاں کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔ طاہر کو بھی اس عمر میں یہ ساری چیزیں کھانے کی خواہش ہوتی تھی لیکن گھرکی ہولناک غربت یہ خواہش پوری نہیں ہونے دیتی تھی۔۔ اب جو میں نے بیس سالہ طاہر کو دیکھا تو اس کی قمیص کی سائڈ والی جیب میں ریوڑیاں، چنے اور ٹافیاں بھری ہوئی تھیں۔ گویا بیس سال کی عمر میں وہ اپنے اندرکے پانچ چھ سالہ بچے کی معصوم خواہشیں پوری کررہاتھا۔
۔۔۔۔طاہرلوہے کی مشینوں پرکام کرتاہے۔ ان مشینوں کی سختی اس کے ہاتھوں میں بھی منتقل ہوئی لیکن جس طرح لوہے کی سخت مشینیں بڑا نفیس قسم کا ریشم کاکپڑاتیارکردیتی ہیں اسی طرح مجھے سخت ہاتھوں والا طاہر ہمیشہ ایسا نوجوان دکھائی دیاہے جس کا دل ریشم کی طرح نرم اور ملائم ہے۔ ا س ریشم جیسے دل کا کمال تھاکہ اسے نسرین نامی ایک گوری چٹی لڑکی دکھائی دی اور اس نے طاہر کے سانولے رنگ کی تلافی کاتہیہ کرلیا۔چنانچہ وہ لڑکی کچے دھاگے سے بندھی چلی آئی اور ہماری بھابھی بن گئی۔ شادی کی تقریب کے معاملے میں اتفاق سے تھوڑی سی گڑبڑہوگئی۔ امی جی اس انتظار میں تھیں کہ بارات اپنے گھر سے لے کرچلیں گے۔ اُدھر ماموں صادق نے نیک نیتی سے خیال کیاکہ کراچی سے ہی بارات لے جاکرشادی کرلیں کچھ رابطے میں کمی تھی۔ نتیجہ یہ ہواکہ امی جی شادی میں شریک نہ ہوسکیں۔ اباجی اور میں بھاگم بھاگ پہنچے۔ شادی کے موقعہ پر ایک عزیزطنزیہ قسم کے جملے بول رہے تھے۔ شادی ہوتے ہی طاہر اپنی دلہن کو لے کر امی جی کی خدمت میں حاضرہوگیا۔ امی جی اتنے میں ہی خوش ہوگئیں۔ البتہ جب انہیں مذکورہ عزیز کے طنزیہ جملوں کا علم ہواتو کچھ رنجیدہ سی ہوگئیں۔ پھر غم کی حالت میں ہی اتناکہہ دیاکہ خدا اسے بھی اس کے بیٹے کی شادی میں شرکت کی توفیق نہ دے۔ قدرت خدا کی بعد میں اُسی عزیز کے بیٹے کی شادی پر صورتحال ایسی پیچیدہ ہوگئی کہ وہ اپنی عزت کاسوال بناکر اپنے ہی بیٹے کی شادی میں شرکت سے محروم رہے۔
۔۔۔۔امی جی کا مبارکہ سے جو تعلق تھا۔ اس کی کوئی مثال لاناتو ممکن نہیں البتہ باقی بہوؤں میں امی جی کو طاہر کی بیوی نسرین زیادہ پسند تھی۔ خصوصاً امی جی اپنی زندگی کے آخری ایام میں کراچی کاسفرکرکے واپس آئیں توطاہر اور نسرین سے بے حد خوش تھیں۔ طاہر کے تین پیارے پیارے سے بچے ہیں۔ نازیہ، دانش اور کرن۔۔ دانش کی پیدائش کے معاً بعد طاہر اور اس کے سسرال کے درمیان غلط فہمی پیداہوگئی۔ صورتحال تشویش ناک حد تک پیچیدہ تھی۔ مبارکہ نے چند دنوں کے دانش کو یوں سینے سے لگایاجیسے اسی کی کوکھ سے پیداہواہے۔ تب میں نے آپی اور اکبرکے ساتھ مل کر مداخلت کی۔ فیصلہ بھابھی نسرین پر چھوڑدیاگیاتو پیچیدہ صورتحال کے سارے پیچ خود بخود کھلتے گئے۔ سیتاجی ساری دنیاکو چھوڑ کر اپنے رام جی کے پاس آگئیں۔ تب سے اب تک دونوں کے درمیان پھر کوئی غلط فہمی پیدانہیں ہوئی بلکہ پہلی غلط فہمی نے میاں بیوی کی محبت کو مزید مستحکم کردیاہے۔۔ اس جھگڑے کو نمٹانے میں اکبر نے خاصی دانشمندی اور مہارت دکھائی۔
۔۔۔۔ اکبر کی دانشمندی کے اعتراف کے ساتھ اس کی دو اور دانشمندانہ باتیں بھی یادآگئیں۔میں باری باری سارے بھائی بہنوں کو یورپ میں آباد کرنے کا متمنی تھا۔ اکبر نے مجھے حیرت سے دیکھااور کہنے لگا بھائی جان! اپنے گھربار کی فکرکریں۔ پہلے خود آبادہوں۔ پھر وہاں سے سب کو پاکستانی کرنسی میں عیدیاں اور امداد بھیج کراپنا زیرِ احسان رکھیں۔ لاکھوں خرچ کرکے انہیں اپنے برابر لائیں گے تو وہ آپ کے ہی گلے پکڑیں گے۔ ایک بہن کو اس کے سارے بچوں سمیت مبارکہ کے ساتھ بھیجناتھامگر وہ صبر کے ساتھ انتظاربھی نہ کرسکی۔ فروری میں جھگڑا کرکے چلی گئی جبکہ مئی کے شروع میں مباکہ کا کام بن گیا۔ تب مجھے اکبر کی دانشمندانہ بات شدت سے یادآئی۔ ایک رشتہ دار کی بیٹیوں نے محلے میں ’’تصوف کے مسائل‘‘ پیداکررکھے تھے۔ ہم نے نیکی کے جذبہ کے تحت لڑکیوں کی ماں کو حالات سے احسن طورپرباخبرکرنے کی کوشش کی۔ وہ رشتہ دار بی بی الٹا لڑنے مرنے پر تل گئی۔ تب اکبر نے بتایاکہ مجھے ان لڑکیوں کے حالات کاعلم ہے۔ان کے خاندان کی فلاں فلاں بی بیوں کے احوال بھی معلوم ہیں۔ مگر سمجھانے کی ضرورت نہیں، سب کچھ کھلی آنکھوں سے دیکھتے بھی رہئے اور انجان بھی بنے رہیے۔ اسی میں کامیابی کاراز مضمر ہے۔ اکبرکی یہ بات بھی ٹھیک تھی۔ اس وقت ہماری ان رشتہ داروں سے علیک سلیک بھی نہیں ہے جبکہ اکبر کے گہرے مراسم ہیں۔
۔۔۔۔اکبرکی دانشمندی جملہ معترضہ کے طورپربیچ میں آن ٹپکی ، بات ہورہی تھی طاہر کی۔ سماجی حالات کی بے رحمی نے طاہر کو اچھی تعلیم حاصل نہیں کرنے دی لیکن اپنے بچوں کے تعلیمی معاملات کی طاہر خود نگرانی کرتاہے۔ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلاکرگویا وہ خود تعلیم حاصل کررہاہے۔ اپنی زندگی میں طاہر سیدھا سادہ اور دیہاتی مزاج کا جوان ہے۔ کراچی شہر کی روشنیاں اس کی آنکھوں میں چکاچوند پیداکرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ زندگی کو اس نے بِتایانہیں بلکہ بھوگاہے۔ کئی بار ایسے وقت آئے کہ اسے فاقے کرنے پڑے، کبھی مسجد میں تو کبھی کسی دوکان کے تھڑے پر رات بسرکرناپڑی۔ اس نے سارے دکھ خاموشی سے جھیلے۔ محنت مشقت کرکے حالات کا مقابلہ کیا۔ آج وہ کراچی جیسے شہر میں اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ عزت کی روٹی کھارہاہے۔عام طوپر تلخ حالات کا مقابلہ کرتے کرتے انسان کے لہجے میں کڑواہٹ آجاتی ہے۔ مزاج میں چڑچڑاپن پیداہوجاتاہے۔ طاہر کاکمال ہے کہ اس نے تلخ ترین حالات سے گزرکر بھی اپنے باطن کی مٹھاس قائم رکھی ہے اور اپنے لہجے میں مزید نرماہٹ پیداکرلی ہے۔
۔۔۔۔اپنے باپ کے بیٹے اور ماں جائے اس اجلے دل والے چھوٹے بھائی کو میں محبت کے ساتھ سیلوٹ کرتاہوں
!
***

زندگی کا تسلسل

زندگی کا تسلسل
پانچوں بچے

میں نے اپنی دیانت کی سب دولتیں اپنی اولاد کو دیں فقط
اور باقی عزیزوں کو صرف اور صرف اپنے حصے کا گھر لِکھ دیا

۔۔۔۔بعض والدین کی اولاد نالائق ہوتی ہے۔ میں وہ خوش قسمت ہوں جو پانچ اچھے بچوں کا نالائق باپ ہوں۔ میرے بچوں کی عالی ظرفی ہے کہ انہوں نے میری تمام تر نالائقیوں کے باوجود مجھے باپ کاپورااحترام دے رکھاہے۔ یہ بات میں نے مزاح پیداکرنے کے لئے نہیں لکھی بلکہ واقعتاً ایک حقیقت بیان کی ہے۔ زندگی بھر میں ادب اور کچھ اور فضول سے چکروں میں ایسا الجھارہاکہ بچوں کی پرورش کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ ویسے اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ مبارکہ نے بچوں کو بخوبی سنبھال رکھاتھا۔ پھر اباجی اور امی جی بھی زندہ تھے اس لئے مجھے بچوں کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئی۔
۔۔۔۔رضوانہ میری پہلی بیٹی ہے۔ ابھی میں خود کو بچہ ہی سمجھتاتھاکہ باپ بن گیا۔ باپ کہلانے کی خوشی میں رضوانہ کی پیدائش پر میں نے اسے گودمیں اٹھایااور پیارسے اس کا منہ چومنے لگا۔ اس پر ایک بزرگ نے مجھے ٹوکاکہ بیٹیوں کی پیدائش پر ایسی خوشی کا اظہارنہیں کرتے۔ چونکہ مجھے ایسے رواجوں کی کچھ خبرنہ تھی اس لئے ان بزرگ کے احترام کو توملحوظ رکھا لیکن رضوانہ کو اسی طرح پیارکرتارہا۔ اس کے لئے کئی کھلونے خریدے لیکن اس کے کھیلنے سے پہلے ہی وہ کھلونے میرے چھوٹے بھائیوں چنّو، منّو کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ جاتے رہے۔ رضوانہ تھوڑی بڑی ہوئی تو اس کے لئے ایک ٹرائیسکل خریدی لیکن اس سے پہلے کہ رضوانہ اسے چلاناسیکھتی، یہ ٹرائیسکل بھی چنے، منے کے ہاتھوں اپنے انجام تک جاپہنچی۔ رضوانہ نے اس نقصان کی تلافی یوں کی کہ بڑی ہو کر بائیسکل چلاناسیکھی۔ پاکستان میں بھی اور جرمنی آکر بھی، سکول جاناہوتایاکوئی چھوٹی موٹی شاپنگ کرنی ہوتی وہ اپنے بچپن کا سائیکلنگ کاشوق پوراکرلیتی تھی۔ اب تو خیر سے کارڈرائیونگ بھی سیکھ چکی ہے۔
۔۔۔۔میں مارپیٹ کواچھانہیں سمجھتا لیکن ناتجربہ کارباپ ہونے کے زمانے میں بچوں کے ساتھ تھوڑی سی ماردھاڑ(مار کم اور دھاڑزیادہ) ضرورکی تھی۔ بیٹوں کی مرمت کرنے میں تو خیر کوئی خاص حرج نہیں لیکن بیٹی کومارنازیادتی ہے۔ میں نے رضوانہ کو اس کے بچپن میں تین دفعہ مارا۔ اب سوچتاہوں تو دوباتیں ذہن میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ رضوانہ میں مجھے آپی کی ہلکی سی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ آپی پہلوٹھی کی تھی،رضوانہ بھی پہلوٹھی کی ہے۔بچپن میں شرارتیں کرنے پرمجھے خاصی مارپڑتی تھی مگر قصور ثابت ہوجانے کے باوجود آپی کوایک تھپڑ یا چپت سے زیادہ سزا نہیں ملتی تھی۔ آپی سے محبت کے باوجود ہوسکتاہے لاشعور میں غصے کی کوئی لہردبی ہوئی ہو،پھر جب رضوانہ میں مجھے آپی کی جھلک نظرآئی تو رضوانہ کو پیٹ کر میں نے آپی کا غصہ اتارلیا۔دوسری بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بچپن میں اکثر یہ خواہش ہواکرتی تھی کہ جلدی سے بڑاہوکرابو بن جاؤں اور پھر اپنے بچوں کی پٹائی کیاکروں۔ سو اس خواہش کی زد میں بھی پہلے رضوانہ ہی آئی۔ اب جواُن تین پٹائیوں کویادکرتاہوں تو اس کے سر اور کندھوں پر پڑے ہوئے سارے تھپڑ مجھے اپنے دل پر پڑتے محسوس ہوتے ہیں۔ رضوانہ کو تو شاید وہ ماریاد بھی نہ ہومگر میں ابھی تک اپنے دل پر وہ مار سہہ رہاہوں۔
سب سے چھوٹی بیٹی درِّثمین(مانو) رضوانہ سے گیارہ سال چھوٹی ہے۔ ایک دفعہ مانواپنی موج میں محمد رفیع کاایک گیت توتلی زبان میں گارہی تھی۔ بابل تی دعائیں لیتی جا، جاتجھ تو ستھی سنسارملے۔۔ رضوانہ نے مانو سے پوچھا: بابل کا مطلب جانتی ہو؟۔۔ مانو نے کہا: نہیں۔۔ اس پر رضوانہ نے اسے بتایاکہ بابل، ابو کو کہتے ہیں اور گیت کا مطلب یہ ہے کہ باپ اپنی بیٹی کی شادی کرکے اسے رخصت کررہاہے۔ ساتھ ہی اسے یہ بھی کہہ دیاکہ جب تمہاری شادی ہوگی تو تمہیں رخصت کرتے وقت ابویہی کسیٹ لگائیں گے۔ یہ بات سن کر مانونے زاروقطار روناشروع کردیا۔ میں نے اور مبارکہ نے اسے سمجھایاکہ بیٹیاں تو ہمیشہ دوسرے گھروں میں بیاہی جاتی ہیں۔ یہ سن اس نے اور زیادہ روناشروع کردیا۔میں نے امی ابو کونہیں چھوڑنا۔ آخر ہم نے کہا اچھا باباجیسا تم چاہوگی ویسا کریں گے، بس اب چپ کر جاؤ۔ بڑی مشکل سے اسے چپ کرایاتو رضوانہ کہنے لگی: ’’چندری ماری!اتنا تو تم اپنی شادی پر بھی نہیں روؤگی جتنا اب رورہی ہو‘‘۔
۔۔۔۔امی ابونے جس طرح ہمیں مروّجہ اخلاقیات کی خوفناک حد تک تلقین کی تھی کچھ ایسا ہی رضوانہ کے ذہن میں بھی بٹھادیاتھا۔ ’’دیانت داری‘‘کاایک دلچسپ واقعہ رضوانہ سے سرزد ہوا۔رضوانہ اپنے بھائی عثمان کے ساتھ جارہی تھی۔ رستے میں عثمان کو کرنسی نوٹوں والا ایک ہارملا۔ اس نے اٹھالیا۔رضوانہ نے ایمانداری کے جذبے سے سرشار ہونے کے باعث عثمان کو سختی سے کہاکہ یہ ہارہمارا نہیں ہے اس لئے اسے فوراً پھینک دو۔ عثمان چھوٹا ہونے کے باعث بڑی بہن کی بات ماننے پرمجبورتھا چنانچہ اس نے ہار پھینک دیا۔ مجھے اس کاعلم ہواتو میں نے بچوں کو سمجھایاکہ اصل دیانت داری کیاہوتی ہے۔ رضوانہ کو اپنی حماقت کااحساس ہوچکاتھا۔ جلد ہی اس نے پہلی حماقت کی تلافی کردی۔ اس بار بھی عثمان اس کے ساتھ تھا۔ رضوانہ کو چیونگم کاایک پیکٹ سر راہ ملا جو اس نے اٹھالیا۔ اب عثمان نے اسے کہاکہ اسے پھینک دو۔ لیکن میں نے بچوں کو اصل دیانتداری کا جو مفہوم بتایاتھا وہ رضوانہ کویادتھا اور وہ اپنی پہلی حماقت کی تلافی بھی کرناچاہتی تھی چنانچہ اس نے چیونگم نہیں پھینکی۔ عثمان کو آج تک اپنے کرنسی نوٹوں کے زیاں کاغم ہے۔ اس کا خیال ہے کہ دو تین سو روپوں والا وہ ہار ہمارے پاس ہوتاتو ہم بے حد امیر ہوگئے ہوتے۔
۔۔۔۔جب میں ابھی پاکستان میں تھا،رضوانہ نے مجھے جرمنی سے خط لکھاکہ میں نے مختلف مضامین میں اتنے اچھے نمبرلئے ہیں۔ ساتھ ہی لکھاہمارے انگلش کے ٹیچر کہتے ہیں کہ تمہاری انگریزی اتنی اچھی ہے کہ اندازہ نہیں ہوتاتم برصغیر کے کسی ملک سے تعلق رکھتی ہو۔ اس پر میں نے اسے لکھاکہ آپ کے ٹیچرکے ریمارکس سے یہ یقین کرنے کی بجائے کہ آپ کی انگلش واقعی اچھی ہوگئی ہے، مجھے یہ یقین ہوگیاہے کہ آپ کے انگلش کے ٹیچر کی اپنی انگلش خاصی کمزورہے۔ یوں بھی جرمنوں جیسی انگریزی تومیں خود بھی بول لیتاہوں جسے انگریزی آتی ہی نہیں۔
۔۔۔۔رضوانہ،شعیب اور درِّثمین کی زبان بچپن سے ہی صاف تھی، تتلاہٹ نہیں تھی۔ عثمان ’ش‘ کو’س‘ بولتاتھا۔ اس نے بھی اس کمی کو جلد کورکرلیا۔ ایک دن باہر سے کھیل کرآیاتو کہنے لگامیں اب ش بول سکتاہوں۔ ہم نے کہاکوئی لفظ بولو۔ اس پر اس نے کہا ’’شبنم‘‘ (تب فلمی اداکارہ شبنم خاصی مشہور تھیں) ٹیپو(طارق محمود) کاف کوتاف اور گاف کو داف بولتاتھا۔ چار سال کی عمر میں اس نے مجھے بتایاکہ مجھے یہ گانا بہت اچھالگتاہے:تبھی نہ تبھی، تہیں نہ تہیں، توئی نہ توئی تو آئے دا(کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی تو آئے گا)
مانو(درِّثمین)ٹیپو کے توتلے پن کا مذاق اڑاتی۔ اس کی نقل اتارتے اتارتے خود توتلی ہوگئی۔شروع میں تو ہم اس کے توتلے پن کو اس کا مذاق سمجھتے رہے لیکن جب یہ اس کی عادت بن گئی تب پریشانی ہوئی۔ گیت گانے کا مانو کو بہت شوق ہے۔ اپنی موج میں گاتے ہوئے اس نے کئی گیتوں کاحلیہ درست کرکے رکھ دیاتھا:
تٹ تٹ باجرہ میں توٹھے اتے پانی آں(کٹ کٹ باجرہ میں کوٹھے اتے پانی آں)
تبھی تبھی مرے دل میں تھیال آتاہے( کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتاہے)
کبھی کسی بھائی یا بہن سے تنگ آتی تو بڑا ایکشن بناکرماتھے پر ہاتھ مارتی اور کہتی ’’اومائی داڈ‘‘ (اومائی گاڈ)۔اب مانوکاتوتلاپن ختم ہوچکاہے لیکن فکرمندی کے باوجود اس کی توتلی زبان ایک عرصہ تک ہم سب کی دلچسپی اور تفریح کاسامان بنی رہی۔ رضوانہ سے سب سے زیادہ محبت بھی اسی کوہے اور سب سے زیادہ جھگڑابھی اسی کے ساتھ کرتی ہے۔ ایک دفعہ میں نے دیکھادونوں میں کوئی اختلاف تھا۔رضوانہ نے اس کے سرپرایک چپت رسید کردی۔ مانو نے پہلے توبڑی بیبیوں کی طرح بے حد سنجیدگی سے رضوانہ کودیکھااور پھر اپنے سے گیارہ سال بڑی بہن کو ڈانٹتے ہوئی بولی ’’شرم نہیں آتی۔۔ بڑی باجی سے بدتمیزی کرتی ہو‘‘۔
یہ ڈرامائی ڈائیلاگ سن کر رضوانہ نے اپنی پانچ سالہ ’’بڑی باجی‘‘ کو پیارسے گود میں اٹھالیا۔
۔۔۔۔مانو خواب دیکھنے سے زیادہ خواب سوچتی ہے۔کئی دفعہ ایسا ہواکہ سوکر اٹھی اور کہنے لگی ابو۔ابو میں نے ایک خواب سوچاہے۔ اس پر سارے بہن بھائی اس کا مذاق اڑاتے لیکن میں پوری سنجیدگی سے اس کا خواب سنتا۔ اس کے دیکھے ہوئے یاسوچے ہوئے خوابوں میں مجھے ننھی منی کہانیاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ننھی منی کہانیاں مانو کے ساتھ کھیلتی رہتی ہیں اور لگتاہے کہ کھیلتے کھیلتے مانو کے ساتھ ہی بڑی ہوتی جائیں گی۔ جہاں تک میں اندازہ کرسکاہوں میرے باقی سارے بچے سائنٹیفک اور حقیقت پسند قسم کے ذہن رکھتے ہیں۔میرا ادبی ورثہ شاید مانو سنبھالے گی۔ مانو میں مستقبل کی ادیبہ کی جھلکی مجھے کئی بار دکھائی دی ہے میں نے اباجی کا خاکہ لکھاتو پانچوں بچوں اور مبارکہ کوبٹھاکرسنایا۔سب نے اسے پسند کیا۔ بعد میں جتنے عزیزوں کے خاکے لکھے سب سے پہلے پانچوں بچوں اور مبارکہ کو سنائے۔ باباجی کا خاکہ سب نے پسند کیالیکن مانو نے فوراً کہا: ہائے ابو!آپ نے باباجی کاوہ نورجہاں کے گانے والا واقعہ تو لکھاہی نہیں۔ تب مجھے مانو میں مستقبل کی ادیبہ کی جھلک پہلی بار دکھائی دی۔ اسی دن سارا خاکہ دوبارہ لکھا اور اس میں مانو کے یادکرائے گئے واقعہ کااضافہ کیاور پھر اسے مانو سے OK! کرایا۔
۔۔۔۔ایبٹ آباد کی ملازمت کے دوران میں سکول کی لائبریری سے ٹیپو اور مانو کے لئے بچوں کی کہانیاں لے آیاکرتاتھا۔ آٹھ دس کہانیاں ایک ساتھ لے آتابعد میں وہ کہانیاں واپس کرکے اور کہانیاں لے آتا۔ ایک بارمانو میرے پاس آئی اور کہنے لگی: ابو!آپ کو لیلیٰ مجنوں کی کہانی کاپتہ ہے؟۔۔ میرے کان کھڑے ہوگئے۔ سات سال کی بچی اور لیلیٰ مجنوں کی کہانی۔۔ یا اللہ خیر!۔۔ میں نے ملائمت سے پوچھابیٹا!آپ نے یہ نام کس سے سنے ہیں؟ جواب ملاکہ کل آپ جوکہانیاں لائے تھے ان میں یہ کہانی تھی۔ میں نے کہانیا ں چیک کیں تو واقعی ان میں سولہ صفحات کی ایک چھوٹی سی کہانی موجود تھی۔ اب مانو نے مجھے بتاناشروع کیاکہ یہ کہانی بہت اچھی ہے۔مجنوں کی امی نے اسے بھیجاکہ لیلیٰ کے گھر سے گھی لے آؤ۔ لیلیٰ کی امی نے لیلیٰ سے کہاکہ مجنوں کو گھی دے دو۔ لیلیٰ نے کنستر اٹھاکر گھی انڈیلناشروع کیا تو لیلیٰ اور مجنوں دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور کنسترکا سارا گھی زمین پرگرکرضائع ہوگیا۔ اس پر لیلیٰ کی امی نے مجنوں اور لیلیٰ کو ڈانٹا تو مجنوں ڈرکے مارے جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ لیلیٰ کی امی نے ٹھیک ہی تو ڈانٹاتھا۔ اتنا سارا گھی گراکر کتنا نقصان کردیاتھا۔کہانی کے اس ٹچ پر میں نے اطمینان کاسانس لیا۔ پھر مانو کہانی سناتی رہی مگر میں اس وقت چونکا جب اس نے کہا کہ آخر میں لیلیٰ اور مجنوں مرکردونوں ایک ہی قبر میں بندہوگئے اور پھر وہاں ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے۔
۔۔۔۔ایک بار گھر میں بات ہورہی تھی کہ ہاشم اور اُمیہ* جڑواں بھائی تھے۔ پیدائش کے وقت دونوں کی پیٹھ آپس میں جڑی ہوئی تھیں۔ جنہیں تلوار سے آپریشن کرکے الگ کیاگیا۔سو ہاشم اور امیہ کی نسلوں میں بھی دیرتک تلوار چلتی رہی۔ اس دوران میرے دو چھوٹے بھائی اعجاز اور نوید باہر سے گھر میں داخل ہوئے بچپن میں اعجاز کو چنّا اور نوید کو منّا کہتے تھے۔ دونوں چاچوں کو ایک ساتھ دیکھ کر مانو نے بے ساختہ کہا: چُنّی مُنّی چُنّی مُنّی۔۔۔ دو بھرانواں دی اِکو پُنی (پنجابی میں بچے کی پیٹھ کو پُنی بھی کہتے ہیں)۔ بس ایسے ہی واقعات سے میرا قیاس ہے کہ درِّ ثمین (مانو) مستقبل میں ادیبہ بنے گی۔ واللہ اعلم
۔۔۔۔رضوانہ کے بعد پہلا بیٹا شعیب(زلفی) تقریباً سوادو سال کے وقفے سے پیدا ہوا۔ شعیب سے ٹھیک ایک سال اور آٹھ دن کے بعد عثمان پیداہوا۔ عثمان کی جلدبازی کے باعث شعیب نے ماں کادودھ بہت کم پیا۔ اس کااثر اس کی صحت پر پڑا۔ تاہم اب اس نے اس کمی کو بڑی حد تک پوراکرلیاہے۔ عثمان کے بعد لمبا وقفہ دینا پڑاکیونکہ شعیب کے علاوہ خود مبارکہ کی صحت بھی خراب ہورہی تھی۔ ساڑھے چھ سال کے بعد طارق(ٹیپو) پیداہوا اور اس سے ایک سال چار ماہ کے بعد مانو پیداہوئی۔
۔۔۔۔میں نے شروع میں بحیثیت باپ اپنی نالائقی کا اعتراف کیاہے۔ شعیب کے معاملے میں ایک باریہ نالائقی حد سے گزرگئی۔ میرے بھائی اکبر کی شادی تھی۔ شعیب تقریباً چھ سال کاتھا۔اسے اکبرکا شہ بالابنایاگیا۔ کراچی سے شادی کرکے واپس آئے۔ خانپور ریلوے اسٹیشن پر ساری بارات اترآئی۔ اسٹیشن سے اترکر تانگوں پر آبیٹھے۔ اچانک مبارکہ چلائی زلفی کہا ں ہے؟ دراصل شعیب گاڑی میں سویا رہ گیاتھا۔ گاڑی نے آخری وسل دے کر رینگنا شروع کردیاتھا۔ چھوٹے بھائی طاہرنے دوڑ لگائی۔ چلتی گاڑی میں چھلانگ لگاکرسوار ہوا، زنجیر کھینچی۔ گاڑی رُک گئی۔ شعیب بدستور برتھ پر سویا ہواتھا۔ طاہر اسے سوئے ہوئے کواٹھالایا۔اب بھی کبھی یہ واقعہ یادآتاہے تو اپنی نالائقی کا احساس بڑھ جاتاہے۔ اگر گاڑی نکل گئی ہوتی تو کیاہوتا.....!
۔۔۔۔شعیب پڑھائی میں تیز ہے جبکہ عثمان جسمانی طورپر تیز ہے۔ ایک بار طاہر نے اپنے بھتیجے عثمان سے کہاکہ اگر شعیب اور رضوانہ دونوں کو ہرادوتوتمہیں دو قلفیاں کھلاؤں گا۔کھانے پینے کی چیزیں تو ویسے بھی عثمان کے اندر ایک نئی روح پھونک دیتی ہیں۔ اس نے بڑی بہن اور بڑے بھائی کااکیلے مقابلہ کیا۔جب بھی دبنے لگتاقلفیوں کے ذائقے کااحساس اس میں طاقت بھردیتا۔ آخر اس نے دونوں کو ہراکر اپنے چچاسے دو قلفیاں کھائیں۔ چونکہ شعیب ذہنی طورپر اور عثمان جسمانی طورپر تیزہے اس لئے میں نے کئی بار من ہی من میں خواہش کی ہے کہ دونوں زندگی میں ایک ساتھ مل کر چلیں۔ میرا خیال ہے اس طرح دونوں زندگی کی کئی منزلیں آسانی سے سرکرلیں گے اور باقی بھائی بہنوں کابھی خیال رکھ سکیں گے لیکن اگر دونوں نے الگ الگ رستے اختیارکرلئے تو شاید دونوں کو زندگی کی مشکلات سے نمٹنے میں قدرے وقت کاسامنا کرنا پڑے۔ دونوں زندگی میں کس طرح ایک ساتھ مل کر چلیں، اس کا کوئی واضح نقشہ میرے ذہن میں نہیں آتا۔ ویسے ایک ساتھ مل کر چلنے سے میری مراد جائنٹ فیملی سسٹم ہرگز نہیں ہے۔
۔۔۔۔رضوانہ، شعیب اور مانواسکول میں پڑھنے کے لئے شوق سے داخل ہوئے تھے۔ ٹیپو بھی مانوکے ساتھ کی وجہ سے ہنسی خوشی چلاجاتاتھا۔ البتہ کبھی بیماری کی وجہ سے مانو سکول نہیں گئی تو ٹیپو اکیلا اسکول جانے سے انکار کردیتا۔ صرف عثمان پہلے پہل سکول جانے سے گھبراتاتھا۔روتے ہوئے سکول جاتا اور وہاں بھی وقفے وقفے سے روتارہتا۔ ایک دن سکول سے آیا تو سلام کرنے کے بجائے اس نے دروازے سے ہی خوشی سے پکارکرکہا: آج میں سکول میں رویا بھی نہیں۔۔ بس پھر اس کے بعد تعلیم کے ساتھ اس کا تعلق جڑتاچلاگیا۔ میرے بچے میری شاعری میں بھی آئے ہیں۔ ’’پھاگن کی سفاک ہوا‘‘ اور ’’نصف سلور جوبلی‘‘ دونوں نظموں میں میرے پانچوں بچے موجود ہیں۔ ایک ماہیے میں دونوں بیٹیاں آئی ہیں: مِری چڑیوں کی جوڑی ہے
اک پہلوٹھی کی
اک پیٹ کھروڑی ہے
میرا ایک ماہیاتھا:
دریا کی روانی ہے
اب مرے بیٹے میں
مری گزری جوانی ہے
اس پر عثمان نے پوچھااس میں کس بیٹے کاذکرہے؟۔۔ میں نے کہا اصولاً تو بڑا بیٹاولی عہد ہوتاہے اس لئے شعیب ہی ہونا چاہئے۔ عثمان نے تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے کہا: آپ تو جمہوری نظام کے مدّاح ہیں۔ بادشاہت او رکسی بھی طرح کی آمریّت کے خلاف ہیں اس لئے یہ ولی عہد کاشاہانہ خیال غور طلب ہے۔ عثمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے اور اپنے موقف کو مستحکم کرتے ہوئے کہا کہ ویسے میں بھی جوان ہوچکاہوں۔ چنانچہ مجھے اس ماہیے میں تبدیلی کرکے جمع کاصیغہ لاناپڑا:
دریا کی روانی ہے
اب مرے بیٹوں میں
مری گزری جوانی ہے
اس طرح اب پانچ چھ سال کے بعد ٹیپو کو بھی شکایت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ماہیے میں ترمیم کرالینے کے بعد عثمان نے پھر میری ایک غزل کاشعر بھی ایسی ہی ترمیم کے لئے پیش کردیا۔
کاروبار عشق سے مل جائیں گی پھر فرصتیں چند برسوں تک مرا بیٹا جواں ہونے کو ہے
۔۔۔۔یہاں جمع کا صیغہ لانے کی صورت میں ردیف میں گڑبڑہوتی تھی اس لئے میں نے اسے سمجھایاکہ اس شعر میں تیکنیکی وجوہ کی بناپر تبدیلی کرنا ممکن نہیں البتہ آپ تینوں بیٹے اسے یکساں طورپر اپنے اپنے لئے سمجھ لیں لیکن اپنا اپناکاروبار ایک دوسرے سے الگ رکھیں۔ یہ شعر میں نے شعیب اور عثمان کے جوان ہونے سے بہت پہلے کہاتھا لیکن اب دونوں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہیں۔ تومجھے ایک لطیفہ شدت سے یاد آنے لگاہے۔
۔۔۔۔ایک صاحب اپنے دوست سے شکایت کررہے تھے کہ میرا بیٹا پڑھائی کی طرف بالکل توجہ نہیں دے رہا۔ زیادہ تریونیورسٹی کی لڑکیوں کے ساتھ گھومتارہتاہے۔ کبھی یونیورسٹی کے لان میں، کبھی کنٹین میں، حتیٰ کہ یونیورسٹی سے باہر بھی۔ اگر مجھے علم ہوتاکہ یونیورسٹی میں یہی کچھ ہوتاہے تو اسے دوکان پر بٹھاکر بزنس میں لگادیتا اور خود یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتا۔
۔۔۔۔شعیب اور عثمان دونوں کوکرکٹ کھیلنے اور گیت گانے کاشوق ہے۔ شعیب کی گیم بہت اچھی ہے میرے کالج کے طلبہ نے مجھے ایک باربتایاتھاکہ سر!آپ کا بیٹا شعیب تو کرکٹ کا زبردست کھلاڑی ہے لیکن عثمان نے اس کی گیم کوکبھی اچھاتسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح عثمان نسبتاً گیت بہت اچھے گالیتاہے لیکن شعیب نے اس کی آواز کا ہمیشہ مذاق اڑایاہے۔ عثمان کی گلوکاری سے یاد آیاکہ رفیع، لتا، مکیش، مہدی حسن، نورجہاں، آشا، نسیم بیگم، مالا، سمن کلیان پورا اور کشور کمار جیسے مقبول گلوکارتو ہر خاص و عام کی پسند ہیں۔ عثمان کو بھی یہ سارے گلوکارپسند ہیں لیکن اس کے پسندیدہ گلوکاروں میں سہگل، سی ایچ آتما، ہیمنت کمار، طلعت محمود، گیتادت اور مناڈے زیادہ اہم ہیں اور اس کے پاس ان سب کے گیتوں کی بہترین کیسٹس موجود ہیں۔ ایک بار کیسٹ پلیئر پر شعیب کاکوئی پسندیدہ گانالگاہواتھا۔ عثمان کی طبیعت جولہرائی تو اس نے گلوکار کے ساتھ سُرملاناشروع کردیامگر شعیب نے اسے براہِ راست روکنے کی بجائے احتجاج کاانوکھا طریقہ نکالا۔ گانے کی دھن کے مطابق سینہ کوبی شروع کردی۔
۔۔۔۔ٹیپو کواللہ میاں کو دیکھنے کابہت شوق رہاہے۔اس کے اس شوق کاایک واقعہ امی جی والے خاکے میں آچکاہے جس سے اس کے تجسّس اور تگ ودو کااندازہ ہوتاہے۔ ٹیپو کے ایک اور ایکشن نے میری ایک پرانی الجھن دور کردی تھی۔ اباجی کویوں تومیرے پانچوں بچوں سے بے حد محبت تھی تاہم ٹیپواور مانوچونکہ سب سے چھوٹے تھے اس لئے ان دونوں سے کچھ زیادہ ہی پیارکرتے تھے۔ نتیجتاً وہ محبت ان بچوں میں بھی ظاہر ہوئی۔ اباجی کی وفات پر ٹیپو پریشان تھا کہ داداابوجاگتے کیوں نہیں؟۔ اسے طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اب نہیں جاگیں گے کیونکہ اللہ میاں نے انہیں اپنے پاس بلالیاہے۔ٹیپونے غصے سے کہا میں اللہ میاں کو ماردوں گا۔ تب چار سال کے اس بچے کو مزید سمجھاناپڑاکہ اللہ میاں کے بارے میں ایسی بات نہیں کہتے کیونکہ وہ بہت بڑاہے۔ٹیپوکے نزدیک تو سارے خاندان میں داداابو ہی سب سے بڑے تھے چنانچہ اس نے پوچھاکیا اللہ میا ں داداابوسے بھی بڑے ہیں؟ اس پر اسے یقین دلاناپڑاکہ اللہ میاں داداابو سے بھی بڑے ہیں اور ہر کسی سے بڑے ہیں۔کوئی زیادہ سے زیادہ کتنابڑاہوسکتاہے اوراس لحاظ سے اللہ میاں کتنا بڑاہے؟یہ جاننے کے لئے ٹیپو نے اپنے دونوں بازو کھولے اورانہیں جس حد تک پیچھے لے جاسکتاتھا، لے جاکر پوچھا: کیا اللہ میاں اتنے بڑے ہیں؟۔۔ بس اسی لمحے میں مختلف مذاہب اور فرقوں کے خداکے بارے میں عقائد اور تصورات مجھ پر آئینہ ہوگئے۔ مجھے محسوس ہواکہ سارے مذہبی لوگ ننھے منے معصوم بچوں کی طرح اپنی اپنی بانہیں پھیلائے کھڑے ہیں۔ جس کی بانہیں جہاں تک جاسکی ہیں اس نے اسی حد تک خداکو بڑا سمجھ رکھاہے کیونکہ اس سے زیادہ بڑائی اس کی سمجھ میں ہی نہیں آسکتی۔ تاہم اس سے مجھے تمام مذاہب کی خداکے معاملے میں سچی جستجواور محبت کا احساس ضرور ہوا۔ یہ الگ بات کہ اس کی ہستی کسی بھی عقیدے اور تصور سے بڑھ کر ہے۔
نام اور روپ سے جو بالا ہے کس قیامت کے نقش والا ہے
۔۔۔۔وہ تو ایک مقدس بھید ہے۔ اس کی جستجو میں جتنا سفر کرلیں اس سفر کی لذت ہی اس کا اجر ہے لیکن اس سفرکاکوئی اختتام نہیں۔ بس کوئی جتنا سفرکرکے لذت کشید کرسکتاہے کرلے۔۔ مذہب میں خداکے نام پرنفرت پھیلانے کاکام تو تنظیمی قسم کے ادارے کرتے ہیں۔ جنہوں نے مذہب کو بندے اور خداکا معاملہ سمجھنے کی بجائے خود اپنا معاملہ سمجھ لیاہے اور یوں مذہب کو دوکانداری بناکررکھ دیاہے۔
۔۔۔۔جس طرح شعیب کے فوراً بعد عثمان کی پیدائش سے شعیب کی جسمانی صحت پر اثر پڑا اسی طرح ٹیپوکے فوراً بعد مانوکی پیدائش سے ٹیپوکی صحت پر اثر پڑا۔ مانو، ٹیپو سے سواسال چھوٹی ہے لیکن ٹیپو سے پہلے اس نے چلنا سیکھ لیا۔ پھر مانو کی دیکھادیکھی ٹیپونے چھوٹے چھوٹے پاؤں اٹھاناشروع کردیئے۔ اور اب تو اس نے شعیب کی طرح اپنی جسمانی کمزوری کو بھی کورکرلیاہے۔ ٹیپوکوبولنا سکھانے اور نام یاد کرانے میں بڑی دلچسپ صورت بنتی تھی۔ میں اپنے بچپن میں اپنے ابوکو’’ابوا‘‘ کہتاتھا۔ ٹیپومجھے ’’ابوبا‘‘ کہتاتھا شعیب اسے ہجے سکھارہاتھا:’’کہو۔۔اب‘‘ ٹیپونے کہا’’اب‘‘
پھر شعیب نے کہا ’ ’بو‘‘ ۔۔ ٹیپونے کہا’’بو‘‘
لیکن جیسے ہی جوڑکرانے کے بعد شعیب کہتا’’ابو‘‘۔ ٹیپو بولتا’’ابوبا‘‘۔ اپنانک نیم اس نے ریورس گیئرمیں لیا:
’’کہو۔۔ٹی‘‘ ’’ٹی‘‘
’’پو‘‘ ’’پو‘‘
’’ٹیپو‘‘ ’’پوٹی‘‘
اب بھی کبھی کبھارمیں اسے پیارسے ٹیپوکی بجائے پوٹی کہہ کر مخاطب کرلیتاہوں۔ ٹیپو اپنے لسانی اصول کے مطابق مانو کونوماکہتا۔ ٹیپوکی اس ذاتی گرائمرسے ہمارے ادب میں نئی لسانی تشکیلات والے پرانے ادباء شاید اپنے بعض بنیادی اصول وضع کرسکیں۔ ایک بار میں چارپائی پرلیٹاہواتھااوردوسال کے چھوٹے سے ٹیپو کو اپنے سینے پربٹھایاہواتھا۔ میں نے اس سے پوچھاآپ کو باتیں کرنا آتی ہیں؟ ٹیپو نے اثبات میں سرہلادیا۔ میں نے کہا پھر ابوسے باتیں کرو۔ ٹیپونے بڑی معصومیت کے ساتھ وقفے وقفے سے بولنا شروع کیا:
’’باتیں ۔۔باتیں۔۔ باتیں۔۔ باتیں۔۔‘‘
۔۔۔۔ایبٹ آبادمیں قیام کے دوران سعید شباب بچوں سمیت خانپور سے آیاہواتھا۔ آپی کے بچے عرفان اور عمران بھی کراچی سے آئے ہوئے تھے۔ ہم سب ایبٹ آباد کے قریب واقع ایک مقام ٹھنڈ یانی کی سیرکے لئے گئے۔ یہ مقام نتھیا گلی سے بھی زیادہ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں بچوں نے گھڑسواری بھی کی ۔ پہلا راؤنڈ مکمل کرکے شعیب، عثمان، عرفان، عمران واپس آئے تو شعیب کے چہرے پر غصے اور کرب کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے سوچا پتہ نہیں بھائی سے یا کسی کزن سے کوئی جھگڑاکربیٹھاہے۔ لیکن جیسے ہی پکنک پوائنٹ پر پہنچا، گھوڑے کی باگ کھینچ کر بڑے ایکشن کے ساتھ کہا’’گھبرسنگھ!باہر نکل۔۔‘‘ تب اندازہ ہواکہ چہرے پر غصے اور کرب کے آثار اپنی اداکاری میں حقیقت کارنگ بھرنے کے لئے طاری کئے تھے۔ ڈائیلاگ ایسے بے ساختہ اندازمیں بولاگیاتھاکہ ہم دیر تک ہنستے رہے۔
۔۔۔۔شعیب بچپن میں مبارکہ کی ایک سہیلی سعیدہ کوبہت پیارالگتاتھا۔ امی جی کو عثمان سے نسبتاً زیادہ پیارتھا۔جبکہ خانپور کی ایک شاعرہ غزالہ طلعت ٹیپو سے بہت پیار کرتی تھی۔ میرے پانچوں بچوں کو اپنے دادا،دادی کی گود میں کھیلنے کااعزاز حاصل ہے اور کسی بھائی کی ساری اولادیہ سعادت حاصل نہیں کرسکی۔ رضوانہ کابیاہ ایک پاکستانی نوجوان حفیظ کوثرسے ہوگیاہے۔ منگنی سے پہلے میں نے رضوانہ سے باربارکہا کہ لڑکے کو ایک نظر دیکھ لو۔ مگر اس کاایک ہی جواب تھا آپ کو پسند ہے تو مجھے بھی پسند ہے۔ شعیب نے جرمنی پہنچتے ہی ایک عشق فرمالیااور عشق کی ایک ہی جست میں سارے مرحلے طے کرکے فارغ ہوگیا۔ یہ عشق کیاتھا۔ ہیر،رانجھا۔۔ سوہنی، مہینوال۔۔ شیریں،فرہاد۔۔ ان سب کی داستانیں یک جاہوگئی تھیں۔ میں نے شعیب کو مشورہ دیاہے کہ آئندہ پرانی داستانوں کودہرانے کی بجائے اپنی اوریجنل داستان بنائے۔ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔
عثمان نے پہلے سے ہی واضح کردیاہے کہ میں تما م کزنز کو اپنی بہنیں سمجھتاہوں۔ شادی خاندان سے باہر کروں گا۔ ٹیپوابھی بارہ سال کاہے لیکن اس نے سات برس پہلے یہ طے کرلیاتھاکہ بڑاہوکرابوبنوں گا۔ بیٹے کا نام رکھوں گا چوزہ اور بیٹی کا نام رکھوں گا نورخاتوں۔۔ مانو کے بارے میں کچھ لکھ دیا تو وہ پھر زاروقطار رونا شروع کردے گی کہ میں نے امی ابوکو نہیں چھوڑنا اور پھر اسے چپ کرانا مسئلہ بن جائے گا۔
۔۔۔۔مشرقی تہذیب کی دولت کے ساتھ میرے بچے اس وقت مغرب کے کشادہ نظر ماحول میں اپنی عملی زندگی کی بنیادیں استوار کررہے ہیں۔ اباجی کی شدید خواہش تھی کہ ان کے پانچوں بیٹے اور ہوسکے تو چاروں بیٹیاں بھی، مل جل کررہیں۔ میں اباجی کایہ خواب پورا کرناچاہتاتھامگر ایک بھائی اور ایک بہن کی بے صبری اور ایک سوتیلی رشتہ دار کی مہربانی نے میرے باپ کے خاندان کاشیرازہ بکھیر کررکھ دیا۔ اب میری خواہش ہے کہ جب میرے پانچوں بچے اپنے اپنے آبادگھروں والے ہوجائیں تب حالات کی مناسبت سے کوئی مدت مقرر کرکے ہفتے، مہینے یاسہ ماہی میں سارے بہن بھائی مل کر سچی محبت اور خوشی سے گیٹ ٹوگیدرکرلیاکریں تو میں سمجھوں گااباجی کا خواب بھی پوراہوگیااور میری خواہش بھی۔ اپنے پانچوں بچوں کے لئے خوشحالی اور خیروبرکت کی دعاکے ساتھ مستقبل میں پانچوں کی خوشگوار اور کامیاب ازدواجی زندگیوں کی دعا میری طرف سے میرے بچوں کے لئے تحفہ ہے۔ اپنے بچوں کو دوعذابوں سے ہمیشہ بچنے کی تلقین کرتاہوں۔ ان سے بچنے کی کوشش بھی کرتے رہیں اور دعابھی کرتے رہیں۔ ایک عذاب غربت کی وہ سطح ہے جو انسان کو دنیاکے جھوٹے خداؤں کے سامنے محتاجی کی ذلت کی حد تک گرادے۔ دوسرا عذاب تکبرکی لعنت ہے۔ ایسا تکبر جو ناحق دوسروں کو ذلیل کرائے۔ اگر بچے ان دونوں عذابوں سے بچ گئے تو بے شک ان کی زندگیاں کامیاب ہوں گی۔ انسان کا مقام خلیفۃ اللہ فی الارض کامقام ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں انسانیت ہی خدا کی اصل نیابت ہے۔
۔۔۔۔آدم اور حوا کی کہانی میں شجر ممنوعہ کے تعلق سے مختلف روایات میں گندم اور سیب کاذکرملتاہے۔اسی طرح ایک روایت میں شیطان کا سانپ بن کر گناہ پراکسانا بھی مذکور ہے۔ گندم، سیب اور سانپ درحقیقت تینوں جنسی علامتیں ہیں۔ ابلیس کا تکبّر بے شک غلط تھامگر اس کی یہ بات درست تھی کہ شجر ممنوعہ کھاکر آدم اور حوا ہمیشہ کی زندگی حاصل کرلیں گے اور واقعی آدم اور حوّا نے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرلی۔ موت سے پہلے اپنی زندگی اپنی اگلی نسل کو سونپ دینا اور پھر اپنی موت کے بعد اپنی اگلی نسلوں میں جیتے چلے جانا، یہی تو ہمیشہ کی زندگی ہے ۔ ابنِ آدم ہونے کے ناطے میں بھی اس زندگی کے تسلسل کا حصہ ہوں جومرکربھی نہیں مرتی۔لاہورمیں ایک بارایک امریکی خاتون سے ملاقات ہوئی تھی۔ (احتیاطاً واضح کردوں کہ یہ خاتون نیگریس تھیں)دورانِ گفتگو محترمہ نے میرے بچوں کی تعداد پوچھی تو میں نے کہا:
Two daughters and three sons.Toatal five sins" "
"but Holy sins" اس خاتون نے میری بات کا لطف لیتے ہوئے جملہ مکمل کردیا۔مجھے خوشی ہے کہ پاپولیشن پلاننگ کے اس دور میں بھی میں اپنے جدِّ اعلیٰ کے گناہ کو پانچ بار دہرانے میں کامیاب رہاہوں۔ وماتوفیقی الّا باللہ
***

*ایک قاری نے توجہ دلائی ہے کہ ہاشم کے بھائی کا نام عبد الشمس تھا۔امیہ ان کے بیٹے تھے اور ہاشم کے بھتیجے تھے۔ہاشم اور عبدالشمس جڑواں بھائی تھے۔گھر میں گفتگو ویسے ہی ناموں سے ہوئی تھی تاہم تاریخی طور پر درستی ذہن میں رہے۔ح۔ق

بعد درویش: اُردو ادب کے نوبل پرائز

 اُردو ادب کے نوبل پرائز
میرزاادیب

خاموشیوں کے لب پہ کوئی گیت تھا رواں
گہری اداسیوں کے کنول جھومتے رہے

۔۔۔۔میرزاادیب سے مل کر مجھے ہمیشہ ایک روحانی خوشی کااحساس ہوا۔ اتنے بڑے اور سینئر ادیب ہونے کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اتنی محبت دی کہ مجھ سے مارے خوشی کے سنبھالی ہی نہیں جاسکی۔ میں جب بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بڑھ کر گلے لگایا۔ دردمند دل رکھنے کے باعث دوسروں کے دکھ درد کو از خود محسوس کرلیتے ہیں۔
۔۔۔۔میرزاادیب بحیثیت ادیب کئی جہات کے حامل ہیں۔ رومان نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، خاکہ نگار، کالم نگار، سوانح نگار۔ اس نگارخانے سے ہٹ کر میرزاادیب بچوں کے لئے لکھنے والے ادیب بھی ہیں اور ’’ادب لطیف‘‘ کے درخشندہ دور میں اس کے مدیر بھی رہے ہیں۔ میرزاادیب کے ساتھ ان کے تمام دوستوں نے یہ زیادتی کی کہ ان کی طبعی شرافت کے باعث انہیں تواتر کے ساتھ بے حد شریف انسان کہنا شروع کردیااس کا نقصان یہ ہواکہ جس طرح بعض لوگ کمینگی کی آخری حدپار کرجاتے ہیں، میرزا ادیب شرافت کی آخری حد پارکرگئے۔آخر شرافت کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے!
۔۔۔۔میرزاادیب کی ذاتی زندگی کاجو عکس’’صحرانورد کے خطوط‘‘ اور ’’صحرانورد کے رومان‘‘ میں نظرآتاہے اور جو ایک رومانوی رویے کے طورپر ان کے افسانوں اور ڈراموں میں بھی صاف دکھائی دیتاہے ان کی خود نوشت سوانح میں نمایاں ہوکر ابھرآیاہے۔ خاکہ نگاری اور کالم نگاری میرزاادیب ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کے تحت کرتے ہیں تاہم اس میں بھی وہ اپنے ادبی آئین کی روح کو پامال نہیں ہونے دیتے۔ بچوں کے لئے لکھے ہوئے میرزاادیب کے ادب کو پڑھ کر مجھے وہ بچہ دلاور علی باربارنظرآیاجسے گھروالوں نے کبھی بڑھئی بنانے کی کوشش کی تو کبھی لوہاربنانے کی سعی فرمائی مگر دلاور علی نے بڑھئی اور لوہارکے کام پر آوارہ گردی کو ترجیح دی۔ یوں اس کے بچپن کی آوارہ گردی اسے اپنے اندر کے صحراؤں میں لے گئی اور پھر ’’صحرانورد کے خطوط‘‘ سے وہ بچہ دلاور علی۔۔ میرزا ادیب بن کرابھرا۔ میرزاادیب نے بچوں کے لئے کہانیاں اور ڈرامے لکھ کر اس بچے کو زندہ رکھاہواہے جو ان کے اندر موجود ہے اور جو انہیں میرزا ادیب بنانے کا موجب بناہے۔ میرے نزدیک وہ بچہ تخلیقی قوت کااستعارہ ہے۔
۔۔۔۔’’ادب لطیف‘‘ کے دورِ ادارت میں میرزاادیب نے متعدد ایسے نئے ادیبوں کو متعارف کرایااور ان کی حوصلہ افزائی کی جو آج اردو ادب کے معتبر نام ہیں۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے لکھا تھاکہ میرزاادیب صرف ادیب ہی نہیں، ادیب گر اور ادیب ساز بھی ہیں ’’ادب لطیف‘‘ کی ادارت کے زمانہ میں میرزاادیب کی قابل قدر خدمات کے پیش نظر انہوں نے ازراہ تفنّن میرزاادیب کانام ہی عبداللطیف رکھ دیا۔ ’’ادب لطیف‘‘ کے دورِ ادارت میں میرزاادیب کے دواہم کارنامے ادب کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اردو انشائیہ جب ابھی نوزائیدہ تھااور اس صنف کا ابھی کوئی نام ہی نہیں رکھاگیاتھا تب میرزاادیب نے اس نئی صنف کی حوصلہ افزائی کی۔ انشائیہ نام تجویز ہونے پر اسے رائج کرنے اور فروغ دینے میں بھی اہم کردار اداکیا۔
میرزاادیب کابحیثیت مدیردوسرا یادگارکارنامہ یہ ہے کہ جب ترقی پسند تحریک کے جنرل سکریٹری مغلوب الغضب ہورہے تھے اور انہوں نے ایک قرار داد کے ذریعے منٹو، ممتاز مفتی، ممتاز شیریں، صمد شاہین اور متعدد دیگر ادباء کے خلاف ادبی بائیکاٹ کی مہم شروع کرکے ادب میں چھوت چھات کے نظام کی بنیاد رکھ دی تھی ،تب میرزاادیب نے بائیکاٹ کے اس غیرادبی اور غیر اخلاقی حکم کو تسلیم کرنے سے انکارکردیا۔ ان کے نزدیک ترقی پسندیا غیر ترقی پسند کی بجائے ادب محترم تھا۔ وہ یہ تسلیم کرنے کو تیارنہیں تھے کہ غیر ترقی پسند مگر اوریجنل اور اچھے ادیبوں کی تخلیقات کابائیکاٹ کیاجائے۔ چنانچہ انہوں نے بائیکاٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی۔ ادارت چھوڑنے کے لئے تیارہوگئے مگر اوریجنل ادیبوں کے بائیکاٹ کو انہوں نے اوچھی حرکت ہی سمجھا۔
۔۔۔۔ایک ادیب نے ایک بارمذاق کے طورپرکہاتھا: ’’لاہورنے ایک ہی ادیب پیداکیا ہے۔ میرزاادیب‘‘۔۔ اس جملے پر غورکرتاہوں توبڑا سچ معلوم ہوتاہے لاہور میں جتنے نامور ادباء ہیں دوسرے شہروں سے چل کر لاہور آئے اور پھر لاہوری ہوگئے لیکن میرزاادیب اوریجنل ’’لاہوری‘‘ ہیں کرشن نگر اور بھاٹی گیٹ کی مٹی سے اُگے ہوئے اور جڑے ہوئے۔ لاہور کی ثقافت کے بیشتر شریفانہ اجزا ء میرزاادیب نے اپنے پاس رکھ لئے اور بے مروتی جوڑ توڑ، شرارت وغیرہ کے منفی اجزاء دوسروں کے لئے چھوڑ دیئے تاکہ جوچاہے بقدر ظرف یا حسب ضرورت حاصل کرتارہے۔
رومانویت کے اثرات میرزاادیب کی تمام اصناف میں ہی نہیں ان کی شخصیت میں بھی موجود ہیں۔ ایک دفعہ ایک ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں میرا اور فرحت نوازکا لاہور آناہوا۔ فرحت کی ایک عزیز سہیلی بھی ساتھ تھی۔ ہم میرزا ادیب کے پاس پہنچے۔ میں نے ان سے کہا ان دوبی بیوں میں ایک فرحت نواز ہے اور ایک اس کی سہیلی ہے۔بوجھیئے کونسی فرحت نواز ہے؟ میرزاادیب شش پنج میں پڑگئے۔ دونوں چہروں کو کافی غور و خوض سے دیکھنے کے بعد انہوں نے فرحت کی سہیلی کو فرحت نواز قرار دے دیا۔ شاید انہوں نے اپنے طوپریہ سوچاکہ مردادیبوں کی طرح شاعرات بھی بہت زیادہ خوبصورت نہیں ہوسکتیں۔ لیکن جب انہیں پتہ چلاکہ ان کا اندازہ غلط ثابت ہواہے تو بہت خوش ہوئے اوراسی خوشی میں دیر تک فرحت کے سرپردستِ شفقت پھیرتے رہے۔ تب مجھے شدت سے یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش میں بھی میرزاادیب کا ہم عمر ہوتا!۔۔ پھر میرزاادیب اٹھے اوراپنی تازہ کتاب ’’مٹی کادیا‘‘ لے آئے۔ اس پر فرحت کانام لکھااور مجھے کہا۔اوئے حیدر قریشی! اس وقت یہ ایک نسخہ ہے اس لئے یہ فرحت کودے رہاہوں، یہ پہلی بار میرے ہاں آئی ہے۔ تمہارا کیاہے تم آتے ہی رہتے ہو، بعد میں لے لینا۔۔ ڈاکٹر انورسدید نے بعد میں ’’غالب کے نئے خطوط‘‘ میں مورخہ ۸۲۔۱۔۷ کے خط میں اس واقعہ کا دلچسپ انداز میں ذکرکیاتھا۔
۔۔۔۔میرزاادیب سادہ دل اور سادہ مزاج کے انسان ہیں۔ اپنے اوپر کوئی دوسرا روپ نہیں چڑھاتے۔ میں نے کئی ایسے ادیبوں کو دیکھاہے جن کی اتنی ادبی حیثیت نہیں ہوتی جتنی وہ اپنی اداکاری سے ظاہرکرتے ہیں۔ اگر ایسے ادیبوں نے اداکاری کی بجائے ادب پر اتنی توجہ کی ہوتی توشاید اپنی موجودہ بہروپیاحالت سے بہتر ہوتے۔ میرزاادیب کی سادگی اور صاف گوئی کی انتہایہ ہے کہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس بات کے کرنے سے میری کم علمی توظاہر نہیں ہوگی۔ صحرانورد کے خطوط کے حوالے سے بات چلی۔ رحیم یارخاں کے چولستان تک پہنچی۔ میرزاادیب نے چولستان کے سحرانگیز واقعات سنے تو بے حد حیران ہوئے پھرمعصومیت کے ساتھ کہنے لگے کبھی موقعہ ملاتو میں آؤں گا مجھے چولستان کی سیر ضرور کرانا۔ حالانکہ اگر میرزاادیب چاہتے تو اپنی حیرت کو اس خیال سے ہی چھپالیتے کہ یہ نوجوان ادیب کیا سوچیں گے، ’’صحرانورد کے خطوط‘‘ لکھ ڈالے مگر صحراکی شکل تک نہیں دیکھی۔ سادگی اور معصومیت کے یہ انداز اب ادیبوں میں کہاں ملتے ہیں۔ اب تو ہر شحص تیز تلوارہے اور موقعہ کی تاک میں۔
۔۔۔۔میرزا ادیب نے ادب کی بڑی خدمت کی ہے ۔ ادب والوں نے اس کا صلہ صرف اتنادیاکہ ان کی بعض کتابوں پر مختلف انعامات دے دیئے۔ لیکن میرزاادیب کی ادبی خدمات کاابھی تک صحیح طورپر اعتراف نہیں کیاگیا۔ اب وقت آگیاہے کہ ادباء کرام اور ادبی ادارے اس طرف توجہ کریں۔ میرزاادیب کی ادبی خدمات نصف صدی کاقصہ نہیں ہیں اس سے بھی زیادہ مدت کا قصہ ہیں۔ ہماری مجموعی عمر پچاس سال سے کوسوں دور ہے جبکہ میرزاادیب اپنی ادبی زندگی کے پچپن سال بھی کبھی کے پورے کرچکے ہیں۔ کیاہمارے ادبی اداروں کو کم از کم اتنی توفیق بھی نہیں ہے کہ میرزا ادیب کی ’’ادبی گولڈن جوبلی‘‘ مناڈالیں؟
۔۔۔۔اگر ’’نوبل پرائز‘‘ عالمی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھ گیاہوتااورنوبل صاحب خود بھی زندہ ہوتے تو میں خود نوبل صاحب کو خط لکھتا، میرزاادیب کی کل کتابیں انہیں بھجواتا۔ مجھے یقین ہے انہیں نوبل پرائز ضرور دے دیاجاتا۔۔ ویسے میرزا ادیب اتنے شریف، محبتی، سادہ اور نوبل انسان ہیں کہ ان کا وجود خود اُردو ادب کے لئے نوبل پرائز کادرجہ رکھتاہے۔
***

ہم کہ ٹھہرے اجنبی

ہم کہ ٹھہرے اجنبی
فیض احمد فیض

چند لمحے وہ ان سے ملاقات کے
میری سانسوں میں برسوں مہکتے رہے

۔۔۔۔فیض احمد فیض اردو شاعری کاایک معتبرنام ہیں۔ شخصی حوالے سے دیکھاجائے توایک ملاقات اور چند خطوط کے تبادلے ہمارے درمیان تعلق کی وہ صورت پیدانہیں کرسکے جو اجنبیت کودور کرنے والی ہوتی ہے۔ یوں کہہ سکتاہوں کہ میں فیض کے معاملے میں اجنبی کااجنبی ہوں، لیکن فیض کی شاعری اور شخصیت دونوں میں اتناجادو ہے کہ دور بیٹھے ہوؤں کو بھی اپنااسیر بنالیتاہے۔ سو میں فیض کے ایسے اسیروں میں سے ہوں اور اس لحاظ سے ان کا شناسابھی ہوں۔
فیض نے بچپن میں والدہ سے قرآن شریف پڑھا۔ کچھ حصہ قرآن شریف کاحفظ کیا۔ ایم اے انگریزی کیا۔ ایم اے عربی کیا۔ امرتسر کالج میں پڑھایا۔ برطانوی ہند کی فوج میں بھرتی ہوئے اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچے۔ پاکستان بننے سے پہلے قائد اعظم کی منظوری سے پاکستان ٹائمز اور روزنامہ امروز کے چیف ایڈیٹر بنے۔ بے باکانہ صحافت کے جرم میں ۱۹۴۸ء میں پہلی بار گرفتار ہوئے، مشہور راولپنڈی سازش کیس میں گرفتارہوئے۔ مجموعی طورپر تین بار گرفتارہوئے۔ فیض نے ادب کا لینن پرائز حاصل کیاجسے ’’یارلوگوں‘‘ نے ان کی شہرت سے زیادہ رسوائی کاموجب بنادیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے اولین دور حکومت میں وزیراعظم کے مشیر برائے تعلیمی و ثقافتی امور بنے۔ اسی دوران بیوروکریسی سے اختلافات کے باعث مشیر کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔مارشل لاء کا تیسرا دور آیاتو فیض کچھ عرصہ بعد ملک سے باہر چلے گئے۔بیروت میں فلسطینی کاز کو تقویت پہنچانے کے لئے کام کیا۔ لوٹس کے مدیربنے ۔وطن کی کشش پاکستان واپس لائی لیکن شاید یہ مٹی کا بلاواتھا۔ پاکستان واپسی کے تھوڑے عرصہ بعد ۱۹۸۴ء میں فیض فوت ہوگئے۔ فیض کی زندگی کایہ بے حد مختصر سااشاریہ تھا۔
۔۔۔۔نقشِ فریادی ،دستِ صبا، زنداں نامہ، دستِ تہہ سنگ، سروادئ سینا، شام شہریاراں، مرے دل مرے مسافر اور غبارایام یہ آٹھ شعری مجموعے شاعری کی دنیا میں فیض کی یادگارہیں۔ ان مجموعوں پر مشتمل کلیات فیض ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ ’’صلیبیں مرے دریچے میں‘‘۔ متاع لوح و قلم‘‘ اور ’’ہماری قومی ثقافت‘‘ فیض کی نثری کتابیں ہیں۔
۔۔۔۔ فیض کے ناقدین دو طرح کے ہیں۔ ایک تووہ جواُن کے ہاں ایک دور تک تازگی اور شعری توانائی کو تسلیم کرتے ہیں مگر بعد میں ان کے ہاں انجماد کااحساس دلاتے ہیں۔ ایسے ناقدین میں ڈاکٹر وزیرآغا، انیس ناگی اور خورشید الاسلام جیسے معتبر لوگ شامل ہیں۔ اپنا موقف دلائل کے ساتھ ثابت کرتے ہیں تاہم اس کا اعتراف تینوں کوہے کہ فیض ترقی پسند تحریک کی سب سے بڑی عطاہیں اور ان کے ابتدائی مجموعے انہیں بطورشاعر زندہ رکھنے کے لئے کافی ہیں۔ دوسرے ناقدین جناب احمدندیم قاسمی کے زیراثر لکھنے والے ہیں اور ان کا اختلاف علمی و ادبی سے زیادہ ذاتی ہے۔ چنانچہ ایسے ناقدین نے کبھی فیض اورقاسمی کو ہم پلہ ثابت کرنا چاہاتو کبھی کسی حیلے سے جناب قاسمی کو فیض سے بھی بڑا شاعر ثابت کرنے کی کوشش کی۔فیض کی وفات کے بعد خیال تھاکہ معاصرانہ چشمک ختم ہوجائے گی۔ لیکن جناب احمد ندیم قاسمی نے اخبار ’’جنگ‘‘ لاہور کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں خود کو درباری شاعر ہونے کے الزام سے بچانے کے لئے فیض کو بھی درباری شاعرہونے کاطعنہ دے دیاہے۔ یہ طعنہ اور الزام حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ فیض نے گرفتاری کے طویل تر زمانے کاٹے مگر جناب احمدندیم قاسمی کی طرح حکومت کو پہلی اور آخری گرفتاری پر ایسی پیش کش کبھی نہیں کی کہ سرکار ہم پر اعتماد کریں ہم آپ کو ایسا ادب پیش کریں گے جو پولیس رپورٹوں کا متبادل ہوگا۔۔ فیض بھٹودورمیں مشیر رہے تو جوڑ توڑکے ذریعے نہیں بنے بلکہ ان کی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں یہ عہدہ دیاگیا۔ اس میں بھی انہیں خلاف مزاج کام کرنے کے باعث الجھن محسوس ہوئی تو انہوں نے بلاتاخیر استعفیٰ دے دیا۔
۔۔۔ ۔فیض سے میری ملاقات ان ایام میں ہوئی جب وہ وزیراعظم کے مشیر تھے۔ لاہور میں ان کے آفس میں سادہ سے کمرے، عام فرنیچر اور سخت گرمیوں کے باوجود چھت کے پنکھوں کے سواکچھ نظر نہیں آیا۔ نہ اعلیٰ فرنیچر، نہ خوبصورت قالین، نہ ایئرکنڈیشنڈ۔۔ میں ادب میں نووارد تھا۔ خانپور میں ہماری محدود ادبی سرگرمیاں تھیں۔ روزنامہ ’’مغربی پاکستان‘‘ لاہور کاایک شمارہ میرے پاس تھاجس میں خانپور کی ادبی ڈائری چھپی تھی۔ اس میں بیک وقت فیض اور نثری نظم کی تحریک کاذکرِ خیر تھا۔ میں نے اپنا مختصر سا تعارف کرایا۔ اخبار پیش کیا۔ فیض نے ہلکے سے انداز میں حوصلہ افزائی کی پھر کہنے لگے آپ نوجوان لوگ ہیں نثری نظم کے جھمیلے میں کہاں پڑرہے ہیں۔ سومیں فیض کے پاس سے ہی نثری نظم سے تائب ہوکراٹھا۔۔ رسمی گفتگو کے بعد میں نے اپنا ذاتی مسئلہ پیش کیا۔ ایک عرصہ سے مناسب جاب کی تلاش میں سرگرداں ہوں مگر بغیر سفارش کے کہیں بھی دال نہیں گلتی۔ فیض تھوڑی دیر کے لئے سوچ میں ڈوبے، پھر سراٹھایا۔ میرے ضروری کوائف معلوم کئے اورکہا ریڈیو کے اسسٹنٹ پروڈیوسر کی جاب کے لئے درخواست لکھ دو۔ میں نے وہیں درخواست لکھ کر ان کے حوالے کی اور گھر آگیا۔تقریباً ایک ماہ انتظارکے بعد میں نے انہیں ٹیلی گرام بھیجا۔ جواباً ان کا ٹیلی گرام آیاکہ درخواست آگے بھیج رکھی ہے بہتر امید رکھیں۔۔ تھوڑے عرصے بعد خبرسننے میں آئی،فیض نے وزیراعظم کے مشیر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔میری قسمت میں تومستقل بے روزگاری لکھی تھی میں نے فیض کو بھی بے روزگارکردیا۔
۔۔ ۔تیسرے مارشل لاء کے کچھ عرصہ بعد فیض بیروت چلے گئے۔ مرزاظفر الحسن سے ان کا پتہ حاصل کرکے ان سے ’’جدیدادب‘‘ کے لئے تازہ غزل منگائی:
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں، کبھی فرقتیں، کبھی دوریاں، کبھی قربتیں
یہ غزل سب سے پہلے ’’جدیدادب‘‘ میں چھپی۔ بعد میں اسے ’’افکار‘‘ اور ’’سیپ‘‘ نے بھی شائع کیا۔ پھر ان کی نظم ’’آج شب کوئی نہیں‘‘ منگاکر شائع کی۔ ’’جدید ادب‘‘ سے لے کر جاپان کے پروفیسر کتاؤکانے اسے جاپانی میں ترجمہ کیا۔ اس بارے میں فیض نے مجھے خط لکھاکہ پروفیسر کتاؤ کاکوپاکستانی رسائل بہت کم پہنچتے ہیں آپ جدید ادب انہیں بھیجتے رہاکریں۔
۔۔۔۔بھارت میں برادرم مناظرعاشق ہرگانوی آزادغزل کی تحریک کو بڑھانے میں سرگرم ہیں۔ ایک بارانہوں نے مجھے آزاد غزلوں کاایک انتخاب بھجوایاجس میں فیض کی ایک آزاد غزل بھی شامل تھی۔ مجھے حیرت ہوئی تاہم میں نے فیض کی آزاد غزل سمیت انتخاب چھاپ دیا۔ یہی آزاد غزل پھر ماہنامہ شاعر بمبئی کے آزاد غزل و نثری نظم نمبر میں بھی شائع ہوئی۔ بعد میں معلوم ہواکہ یہ تو فیض کی ’’شام شہریاراں‘‘ کی ایک نظم تھی جسے قطع وبرید کرکے بڑی عمدگی سے آزاد غزل بنادیاگیاتھا فیض صاحب نے کسی محفل میں وضاحت کی کہ میں آزادغزل اور نثری نظم دونوں ’’خوبیوں‘‘ سے پاک ہوں۔ کچھ عرصہ بعد فیض کی آزادغزل کے سلسلہ میں آزاد غزل کے بانی مظہرامام سے جنگ لاہور میں چھپنے والے انٹرویومیں سوال کیاگیاتو انہوں نے کمال محبت سے فیض کی آزاد غزل کی دریافت واشاعت کا سہرا ’’جدید ادب‘‘ کے سرباندھ دیا۔ ممکن ہے انہیں واقعی علم نہ ہو لیکن ڈاکٹر مناظرعاشق ہرگانوی زندہ ہیں وہ یقیناً اعتراف کریں گے کہ فیض کی آزاد غزل مجھے انہوں نے بھجوائی تھی سو اس کی دریافت کاسہرا انہیں کے سر ہے۔
۔۔۔ ۔فیض کم گوانسان تھے۔ کہتے ہیں کہ کم گو لوگ یا بہت چالاک ہوتے ہیں یابہت بے وقوف ۔ فیض یقیناًہوشیار آدمی تھے۔ پاکستان کے ماحول میں ان کی کم گوئی ان کے لئے سوسُکھ کا موجب بنی۔ فیض بہت اچھے انسان تھے لیکن فرشتہ نہیں تھے۔ راولپنڈی سے ایک ممتاز ادیبہ ابھری تھیں۔ آج وہ تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ انہوں نے فیض کے مقام و مرتبہ کے باعث انہیں اپنے گھر پرمدعوکیا۔ فیض ’’ہم مشربوں‘‘ کے ساتھ پہنچے۔ وہاں ایک دو دفعہ محفل ناؤونوش جمائی۔ پھر فیض اپنی دیگر مصروفیات میں الجھ گئے مگر ان کے بعض ’’ہم مشرب‘‘ تواترسے وہاں جاتے رہے اور اپنی ثابت قدمی سے اس خاتون کو بھی اپنی محفل میں شریک کرلیا۔ ملک کاسیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا۔ شراب مہنگی ہوئی تو یارلوگ تتربترہوگئے۔ خاتون نشہ کی عادی ہوچکی تھیں۔ آخر سستے نشے کی طرف راغب ہوئیں۔ ادبی تنقید کی متوقع ہیروئن۔۔ نشہ آور ہیروئن کی بھینٹ چڑھ گئی۔ یہ زندہ لاش ابھی بھی راولپنڈی میں موجود ہے۔ رشیدین(رشید امجد اور رشید نثار) سے تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں۔ یہ لاش بزبان حال آج بھی اپنے مہربانوں سے کہہ رہی ہے:
ویسے توتمہیں نے مجھے برباد کیا ہے
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا
۔۔۔۔فیض بہت بڑے شاعر تھے لیکن ان کے ساتھ المیہ یہ ہواکہ انہیں ایسے مدّاح مل گئے جن کے نزدیک فیض کی شاعری سے زیادہ ان کا ’’پائے جامہ‘‘ باعث افتخارہے۔ مریدان باصفاشایدفیض کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈنا چاہتے تھے۔ وہ تو خدابھلاکرے ایلس فیض کا جنہوں نے قصۂ زمین برسرزمین ہی نمٹادیاوگرنہ ’’پائے جامہ‘‘ کے بعد ’’زیرجامہ‘‘ کی باری بھی آتی۔ غالبؔ کے ہاں تارتار گریباں اور دامن تارتار تو بہت ملتاہے مگر پائے جامہ کا کوئی ذکرہی نہیں ہے۔
۔۔۔۔میں فیض مرحوم کودُورسے دیکھنے والوں میں سے ہوں لیکن میری دعا ہے کہ خدا انہیں قریب کے ان ساتھیوں کے شرسے محفوظ رکھے جن کے ہوتے ہوئے فلک ناہنجار کو ان سے دشمنی کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔
***

عہد ساز شخصیت

عہد ساز شخصیت
ڈاکٹر وزیرآغا

جو اپنی ذات میں سمٹا ہوا تھا
سمندر کی طرح پھیلا ہوا تھا

۔۔۔۔میراپہلا مضمون ۱۹۷۵ء کے لگ بھگ ’’نگارپاکستان‘‘ کے ایک شمارہ میں شائع ہواتھا۔ مضمون کاعنوان تھا ’’موجودہ ادبی بے راہ روی‘‘ اس مضمون میں ،میں نے ’’ادب میں نیک مقصدیت‘‘ کے تصور کو ادب کے لئے مضر سمجھا تھا اور ادب برائے زندگی اور ادب برائے ادب دونوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت کو محسوس کیاتھا۔تب میں ادبی دنیا میں نووارد تھا اور جدیداردوادب کا میرا مطالعہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ تاہم ادب کے بارے میں میرے تصورات مبہم اور غیرواضح ہونے کے باوجود میرے اندرکی کسی طلب کے ترجمان تھے۔ اسی دوران مجھے ’’تنقید اور احتساب‘‘ پڑھنے کا موقعہ ملاتویوں لگامیرے مبہم اور غیر واضح تصورات کو اصل صورت ملنے لگی ہے۔ یہ ڈاکٹر وزیرآغاسے علمی سطح پر میری پہلی ملاقات تھی۔ اس کے بعد ’’نظم جدید کی کروٹیں‘‘اور ’’نئے مقالات‘‘ کے ذریعے ڈاکٹر وزیرآغاسے مزید دوملاقاتیں ہوئیں اور مجھے احساس ہواکہ ادب کے بارے میں جو کچھ میں سوچتاہوں مگر میری گرفت میں نہیں آپاتاوہ سب ڈاکٹر وزیرآغاکی گرفت میں ہے۔بقول غالب: میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
۔۔۔۔۱۹۷۸ء کے آخرمیں ’’جدید ادب‘‘ کتابی سلسلے کے اجراء کا پروگرام بنا۔ میں خانپور سے چل کر لاہور آیا۔ علی اکبر عباس پہلے ادیب تھے جو بڑی محبت سے ملے۔ میری حوصلہ افزائی کی۔ ٹی وی سنٹر اور پاک ٹی ہاؤس کی یاترا کرائی۔ لاہور کے ادیبوں سے نگارشات لے کر دیں۔ ’’جدید ادب‘‘ کے اولین کرم
فرماؤں میں سراج منیر، اقبال ساجد،ا سلام عظمی، خالد احمد اور بعض دیگر ادباء شامل تھے۔ علی اکبر عباس کے توسط سے ہی ان ادباء نے اپنی تخلیقات عطاکی تھیں۔ ’’جدید ادب‘‘کا پہلا شمارہ چھپا۔ ادباء کی خدمت میں بھیجاگیامگر اہل لاہورنے اسے چنداں اہمیت نہ دی۔ اسی دوران ڈاکٹر انورسدید کاایک انٹرویو روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہوا۔ اس انٹرویو کے ساتھ ان کا پتہ بھی درج تھا۔ میں نے انہیں خط لکھا اور ممکنہ حد تک قلمی معاونت کی درخواست کی۔ میں نے انورسدید کو خط کیا لکھاگویا دبستاں کھل گیا۔
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو
۔۔۔۔ڈاکٹرانورسدید نے مجھے لاہور کے چکروں سے نجات دلادی۔ ادبی تحریروں کے حصول کے لئے اچھے اچھے ادیبوں کے پتے فراہم کئے۔ ان میں وزیرآغابھی شامل تھے۔ڈاکٹر وزیرآغانے میری معمولی سی درخواست پر جس محبت کے ساتھ اپنی نگارشات عطاکیں مجھے اس پر خوشگوار حیرت کا احساس ہوا۔ ’’جدید ادب‘‘ کے اجراء کابنیادی مقصدیہ تھاکہ بڑے شہروں کے ادیبوں کی اجارہ داری کے باوجود چھوٹے شہروں کے ٹیلنٹ کو بھی سامنے آنے کاموقعہ ملناچاہئے۔ بعد میں پتہ چلاکہ اہل سرگودہابھی ہماری طرح لاہوری ادیبوں کی اجارہ دارانہ ذہنیت کاشکارہیں اور کئی برس سے علمی اور تخلیقی سطح پر مصروف جہاد ہیں۔
۔۔۔۔اس تمہید طولانی سے میرا مقصد یہ ظاہرکرناتھاکہ ڈاکٹر وزیرآغاسے میرا تعلق کسی تعارف کے بغیرفکری سطح پر پہلے قائم ہواتھا۔ذاتی رابطہ اور شخصی سطح پر تعلق بہت بعد میں قائم ہوا۔میں نے وزیرآغاسے اپنے تعلق اور نیازمندی کو دوخانوں میں بانٹ رکھاہے۔ایک خانہ علمی اور فکری تعلق کاہے۔ ایک خانہ شخصی اور ذاتی تعلق کاہے۔ علمی لحاظ سے میں ڈاکٹر وزیرآغاکو اپنااستاد اور رہنماسمجھتاہوں۔ ان کی تنقید اور فکر سے میں نے ادبی رہنمائی حاصل کی ہے۔ میں نے افسانے لکھے تو انہوں نے قدم قدم پر مجھے شاباش دی۔ حوصلہ افزائی کی۔ مفید مشورے دیئے۔ کبھی کبھی بعض مشوروں سے مجھے الجھن بھی ہوتی تھی۔ ابھی میں نے چند افسانے لکھے تھے جو زیادہ تر’’اوراق‘‘ میں چھپ جاتے تھے۔ افسانہ ’’پتھر ہوتے وجود کادکھ‘‘ میں نے ’’اوراق‘‘ کے لئے بھیجاتو وزیرآغا نے مجھے خط لکھا: اگر آپ اسی انداز سے آگے بڑھتے رہے توبہت جلد صف اول کے افسانہ نگاروں میں شامل ہوجائیں گے۔ چنانچہ میں نے احتیاطاً اپنا انداز بدل لیاتاکہ صف اول کے جدید افسانہ نگاروں میں شامل ہوکر اپنا حشر بھی ان جیسانہ کرالوں۔ وزیرآغا نے مجھے انشائیے لکھنے کاشوق پیداکیا۔ میں نے اپنی ادبی زندگی کاآغاز غزل سے کیاتھا۔وزیر آغاسے رابطہ ہواتو مجھے پہلی بارماہنامہ ’’اردو زبان‘‘ میں شائع شدہ نظم ’’دھوپ‘‘ کے ذریعے شاعر وزیرآغاسے ملاقات کا موقعہ ملا۔ سردیوں کے موسم میں یہ نظم پڑھی تھی۔ مسرت اور حیرت کی ایک انوکھی سی کیفیت مجھ پر طاری تھی۔ میں شاعری کے ایک نئے ذائقے سے آشناہوا۔ پھر ’’واپسی‘‘ اور ’’سمندر اگر میرے اندر گرے‘‘ نظمیں پڑھیں اور میں وزیرآغاکی نظموں کا ہمیشہ منتظررہنے والا قاری بن گیا۔ میرے نزدیک وزیرآغاکی نظم میں جوجہانِ دیگر ہے وہ اس عہد کے کسی بھی دوسرے نظم نگار کونصیب نہیں ہوا۔
۔۔۔۔شخصی سطح پر قلمی رابطے کے بعد ڈاکٹر وزیرآغا۱۹۷۹ء کے اواخر میں اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے رحیم یارخاں تشریف لائے۔خانپور بھی آئے۔ تب ان سے ملاقاتیں ہوئی۔ پہلی ملاقات کے وقت میرا پہلا تاثر یہ تھاکہ میں اس عہد کی اک بہت بڑی ادبی اور علمی شخصیت سے ملنے کااعزازحاصل کررہاہوں۔ پھر کبھی بہاولپور، کبھی لاہور اور کبھی سرگودہامیں ان سے ملاقاتیں ہوئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
۔۔۔۔ڈاکٹر وزیرآغا میں ایک خوبی یہ ہے کہ اپنے دوستوں کو مطالعہ کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں۔ عالمی ادب اور بالخصوص انگریزی ادب کی رفتار سے باخبر رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ شروع شروع میں انہوں نے مجھے بھی انگریزی کتب پڑھانے کی کوشش کی لیکن ان کے چکر میں آئے بغیر میں نے انہیں صاف صاف بتادیاکہ انگریز کی برصغیر پر سوسالہ غاصبانہ اور ظالمانہ حکمرانی کے باعث میں انگریزی زبان سے محبت نہیں رکھتا (انگریز خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں)۔ دوسرے یہ کہ میری انگریزی اسکول کے زمانہ سے ہی اتنی خراب رہی ہے کہ انگریزی کتب پڑھنا میرے بس کا روگ نہیں ہے۔ سوانہیں اندازہ ہوگیاکہ انگریزی زبان سے میری واقفیت کاحال ان کے ’’بھائیے‘‘ جیساہے۔ چنانچہ پھر انہوں نے مجھے اس چکر میں الجھانا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔وزیرآغاسے دوستی اور فکری ہم آہنگی نے مجھے عملی زندگی میں شدید نقصان بھی پہنچایاہے۔ میں پہلے ہی سے کچھ صوفیانہ فکروخیال کا آدمی تھا،اوپر سے وزیرآغانے دنیا سے بے نیازی اور ادب کوہی اولیت دینے کااتنااظہارکیاکہ میں نے دنیااور اس کی محبت کو بہت ہی حقیر سمجھ لیا۔۔ بچے بڑے ہوئے۔ سکول، کالج تک پہنچے۔ اخراجات بڑھے۔ مہنگائی بڑھی تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا۔ تب پتہ چلاکہ دنیا سے اتنی بے نیازی بھی اچھی نہیں۔۔۔ دنیا سے بے نیازی اسی وقت اچھی لگتی ہے جب گھر میں کھانے پینے کے وافر اسباب موجود ہوں ورنہ انسان کاوہی حشر ہوتاہے جو میرا ہوا۔
۔۔۔۔وزیرآغاکے بہت سے دوست بنے۔ کچھ چند قدم چل کرجداہوگئے۔ بعض نے لمبی رفاقت کے بعد جدائی اختیارکرلی۔۔ بعض دوست غلام جیلانی اصغر، انورسدید، غلام الثقلین نقوی، صابر لودھی اور سجاد نقوی کی طرح دوستی نبھانے والے نکلے۔۔ جدا ہونے والوں میں سے کچھ لوگ جداہوکرخاموش ہوگئے۔۔ کچھ نے مخالفت پہ کمرباندھ لی۔۔ ایساکیوں ہوا؟
۔۔۔۔میں یک طرفہ بے لوث اور بے غرض محبت کونہیں مانتا۔ محبت ہمیشہ دوطرفہ ہوتی ہے۔ محبت بجائے خود ایک ایسا جذبہ ہے جو تسکین کی غرض رکھتاہے۔ اس لئے میں یہ نہیں مانتاکہ وزیرآغاکوچھوڑجانے والے لوگ محض اغراض کے بندے تھے۔ اصل خرابی یہ تھی کہ شدید محبت کے باعث وزیرآغاسے ان کی توقعات بہت بڑھ گئی تھیں۔ چنانچہ جب ان توقعات کو ٹھیس پہنچی تو جدائی واقع ہوگئی۔۔ جدائی کے بعد بعض صاحبان خاموش ہوگئے اور بعض نے مخالفت پرکمرباندھ لی یہ تو اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔
۔۔۔۔وزیرآغادشمن کے تیرسہنے کاحوصلہ رکھتے ہیں مگر دوستوں کے مارے ہوئے پھول نہیں سہہ سکتے۔ ہاں اگر دوست کھل کردشمن بن جائے تو پھر اس کی زہریلی مخالفت کو بھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گھول کر پی جاتے ہیں۔ سطحی قسم کے مخالفین کے انداز مخالفت پر انہیں غصہ نہیں آتابلکہ مخالفوں کی ذہنیت پر رحم آتاہے۔ البتہ جو لوگ مکارانہ اور سازشی انداز اختیارکرتے ہیں ان کے رویّے پر وزیرآغاکو افسوس بھی ہوتاہے اور رنجیدہ بھی ہوتے ہیں۔۔علمی اور فکری اختلاف رائے کو وزیرآغانے ہمیشہ کشادہ بازؤں کے ساتھ سینے سے لگایاہے۔مخالفت کی آندھیوں اور دشمنی کے سیلابوں کے پے درپے حملے سہنے کے باوجود اور اپنی عمر کے ستربرس عبورکرلینے کے بعد بھی وزیرآغاباغ و بہار شخصیت کے مالک ہیں۔شگفتگی ان کے مزاج کا حصہ ہے۔۔لطیفہ بازی، ہنسنے ہنسانے کااکتسابی عمل ہے۔ لطیفہ بازادیبوں پر بعض اوقات اس کا اتناگہرااثر پڑتاہے کہ ان کی تخلیقات بھی اکتسابی عمل دکھائی دینے لگتی ہیں۔ لطیفہ بازی کی کئی عبرتناک مثالیں لاہورمیں موجود ہیں۔ وزیرآغالطیفہ باز ہیں نہ جملہ باز۔۔ وہ تو جملہ تخلیق کرتے ہیں اور اس میں ایسابے ساختہ پن ہوتاہے کہ نشانہ بننے والا بھی لطف اندوز ہوتاہے۔ شاید اس لئے بھی کہ ان کے جملے میں ڈنک نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔عام طورپر مجلسوں میں ہنسنے ہنسانے والوں کا علم کاخانہ خالی ہوتاہے مگر وزیرآغاایک طرف شگفتگی اور خوش مزاجی کا سمندرہیں تو دوسری طرف علم کا بحرذخارہیں۔ میں نے نجی گفتگو میں بھی وزیرآغا سے بہت کچھ سیکھاہے۔ الٰہیاتی مسائل، روح کی حقیقت، انسان کی مخفی قوتیں اور کائنات کی بے پناہ وسعتیں۔۔ ان موضوعات پر ان سے کھل کرباتیں کی ہیں۔بعض ایسی باتیں جو اپنے آپ سے کرتے ہوئے بھی کبھی کبھار خوف محسوس ہوتاہے وزیرآغاسے بے خوف ہوکرکی ہیں اور ان کی گفتگو سے بہت کچھ حاصل کیاہے۔ ان کے گاؤں وزیرکوٹ میں کھیتوں کے دورتک پھیلے ہوئے سلسلے بھی دیکھے ہیں اورآسمان پرڈوبتے سورج کا منظربھی دیکھاہے۔۔ طویل وعریض کھیتوں میں کھڑے ہوکر میں نے یہ تجربہ بھی کیاکہ کس طرح معمولی سازاویہ بدلنے سے سامنے کاسارا منظر تبدیل ہوجاتاہے۔ اس سے کائنات کی نیرنگیوں کا اندازہ ہوا۔
۔۔۔۔وزیرآغانے ایک دوبار میرے گھر کو بھی اپنی آمد سے رونق بخشی۔ ایک دفعہ اباجی کی زندگی میں آئے۔اباجی اور وزیرآغاکی مختصرسی ملاقات ہوئی۔ اباجی کسی اورلائن کے آدمی تھے لیکن وزیرآغاکے جانے کے بعد خوشی کااظہارکرتے ہوئے کہنے لگے بھئی تمہارے وزیرآغاکی آنکھوں میں بڑی انوکھی چمک ہے اور اس کے چہرے پر کسی روشنی کا ہالہ سا محسوس ہوتاہے اباجی کی ملاقات و۔ع۔خ سے ہوتی تو شاید کچھ ایسی صورت بنتی:
اس نے کاغذپہ لکھا روگ تمہارایہ ہے
میں نے کاغذ پہ لکھا روگ تمہارا بھی تومیرے ہی سجل روگ کاآئینہ ہے
اورپھرآئینے اک دوسرے کو دیکھ کے حیران ہوئے
اپنے روگوں کے نگہبان ہوئے!
۔۔۔۔وزیرآغاکوسائنسی انکشافات اور طبیعات کے مضمون سے بڑی دلچسپی ہے۔ طبعیات پر ان کی معلومات اتنی تازہ ترین ہے کہ میرے ایک عزیز اور طبیعات کے پروفیسر ادریس احمداس بارے میں باربارحیرت کااظہارکرتے رہے ہیں اور تاحال ان کی حیرت ختم نہیں ہوئی۔
۔۔۔۔جولوگ مختلف علوم کے ادب کے ساتھ ربط کی نوعیت کوجانناچاہتے ہیں انہیں وزیرآغاکی کتب ضرور پڑھنی چاہئیں اور طلب زیادہ ہوتو ملاقات بھی کرنی چاہئے۔ علم کے جو ایسے دلدادہ تاحال وزیرآغاکی کتابیں نہیں پڑھ سکے یا ان سے ملاقات نہیں کرسکے ان کے بارے میں یہی کہوں گا: افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی
۔۔۔۔اردوانشائیہ کے بانی، جدید تر نظم کے پیش رو، اردو تنقید کی منفرد اور عالمانہ آواز۔۔ ڈاکٹروزیرآغاعہد ساز شخصیت ہیں۔ اپنی بعض بشری کمزوریوں کے باوجود ہمارے ادب اور ہمارے عہد کا بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ مجھے فخرہے کہ مجھے ان سے اکتساب علم اور نیاز مندی کا شرف حاصل ہے۔
***

ایک ادُھوراخاکہ

ایک ادُھوراخاکہ
غلام جیلانی اصغر

مجھے ہر گنہ کی جزا ملی
وہ شرافتوں کی سزا میں ہے

۔۔۔۔پروفیسر غلام جیلانی اصغر سے میری پہلی ملاقات اس زمانے میں ہوئی جب وہ بھرپور جوانی گزارکے لڑکپن کی حدودمیں داخل ہوچکے تھے۔ان سے ملاقات کے پہلے مرحلے میں ہی ’’ہونہار برواکے چکنے چکنے پات‘‘ والی بات مجھے پہلی بار صحیح طورپرسمجھ میں آئی۔ یہ حقیقت ہے کہ جیلانی صاحب جوانی کے بعد مزید جوان ہوئے، بڑھاپے کو ان کے دل پر قبضہ کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ہم دونوں میں سب سے اہم قدر مشترک یہ تھی کہ ہم ذہنی طورپر ہمیشہ ٹین ایج میں رہے اور انشاء اللہ تادم مرگ ایسے ہی رہیں گے۔ذہنی عمرکی ہم آہنگی کے باعث ہم ان باتوں میں ہمیشہ ایک دوسرے کے راز داررہے جو ایسی عمروں کا خاصہ ہوتی ہیں۔ مثلاً جیلانی صاحب کو انٹرکی ایک طالبہ سے محبت ہوگئی بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگاکہ اس طالبہ کو جیلانی صاحب سے محبت ہوگئی (دراصل لڑکی بچپن سے باپ کی شفقت سے محروم تھی)۔۔ ان دنوں میں جیلانی صاحب نے نہایت خشوع و خضوع سے نمازیں پڑھنا شروع کردیں، گویا:
اس کو پانے کی تمنا یہ یقیں کب ہے مگر
ہاتھ جب اٹھ ہی گئے ہیں تو دعا ہی مانگوں
سوجیلانی صاحب دعائیں مانگتے رہے اور مجھے بھی اس محبت کے احوال سے آگاہ کرتے رہے۔۔ میں ان دنوں میں جو بھی دعاکرتاتھا، رد ہوجاتی تھی اس لئے میں زورشور سے ان کی کامیابی کے لئے دعائیں کرنے لگا۔ نتیجہ میری توقعات کے عین مطابق نکلا۔۔ اسی محبت کے دوران جب لڑکی انٹر کاامتحان دے رہی تھی ایک دلچسپ واقعہ ہوا۔جیلانی صاحب کو امتحانات کے د وران چیکنگ کے خصوصی اختیارات حاصل تھے انہوں نے وزیرآغا سے کارمانگی تاکہ امتحان گاہ کادورہ کرآئیں۔ آغا صاحب نے یہ شرط عائد کردی کہ حیدرقریشی کو ساتھ لے جائیں بے شک سارادن کاراپنے پاس رکھیں۔ جیلانی صاحب نے کہا حیدرقریشی کو ساتھ لے جانے سے بہتر ہے میں خود ہی نہ جاؤں۔ مجھے اپنے بھید بتانے کے بعد انہیں اب یہ احساس ہونے لگاتھا:
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
۔۔۔۔غلام جیلانی اصغر کی محبت کے ساتھ مجھے جوش ملیح آبادی اور قدرت اللہ شہاب دونوں یاد آتے ہیں۔ جوش نے اپنی محبتوں کے اشتہار خود آویزاں کئے تھے بلکہ ان میں ڈھیر ساری رنگ آمیزی بھی کی تھی جبکہ غلام جیلانی اصغر نے اپنی محبتوں کو کبھی مشتہرنہیں کیا۔قریبی دوستوں ے بے اختیاری میں کچھ باتیں کہہ گئے تو یہ محبت کااپنا زور ہوتاہے مگر دوستوں سے بھی سارے رنگ چھپائے رکھے صرف بلیک اینڈ وائٹ ہی ظاہر کئے۔ قدرت اللہ شہاب چندراوتی کے عشق میں مسجد تک چلے گئے۔ گناہ کی توفیق مانگنے کے لئے لفظوں کے بہانے ڈھونڈتے رہے اور پھر وہاں سے بھاگ نکلے۔۔ غلام جیلانی اصغر نے خدا سے ہیرا پھیری کی کوشش نہیں کی۔ بڑے صاف، سلیس اور سادہ لفظوں میں بے تکلفی سے خداسے کچھ یوں دعامانگی:
مولا!مجھ میں گناہ کرنے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے۔ مجھے یہ
صلاحیت عطاکر، پھر گناہ کرنے کی توفیق دے اور اس کے بعد
میرے گناہ کو معاف بھی کردے۔بے شک توغفورالرحیم ہے!
۔۔۔۔ادبی لحاظ سے جیلانی صاحب ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔شاعر، انشائیہ نگار، مزاح نگار۔۔ ان تمام اصناف میں جیلانی صاحب کی شخصیت کاایک وصف بہت نمایاں ہے اور وہ ہے ان کے مزاج کی شگفتگی اورتازگی۔۔ ان کے انشائیوں میں شگفتگی کاعنصر قدرے زیادہ ہوتاہے اس لئے انشائیہ کے مخالفین نے ان کے انشائیوں کو حوالہ بناناچاہا لیکن جیلانی صاحب نے الگ سے طنزیہ مزاحیہ مضامین لکھ کر طنزومزاح اور انشائیہ کے بنیادی فرق کو خود ہی واضح کردیا۔
۔۔۔۔جیلانی صاحب کا شعری مجموعہ ’’میں اور میں‘‘ شائع ہواتو ہاتھوں ہاتھ بک گیا۔اس مجموعے کی فروخت کے سلسلے میں بعض لطیفے بھی مشہور ہوئے جن میں سب سے عمدہ لطیفہ مشفق خواجہ نے گھڑاتھا۔ اس لطیفے کے مطابق جیلانی صاحب نے اپنے پرانے شاگردوں کواپنا شعری مجموعہ حکماً فروخت کیا۔ اس لطیفے میں مزید اضافہ یہ ہواکہ جب کتاب کی ایک ہی جلد باقی رہ گئی،وہ ہمیشہ جیلانی صاحب کی بغل میں رہتی۔ جہاں کوئی پرانا شاگردنظر آتااس سے پوچھتے تم نے میرا شعری مجموعہ دیکھاہے۔جواب نفی میں ملتاتوکتاب اس کے ہاتھ میں تھماتے اورکہتے چلونکالوایک سو روپیہ۔۔ جب رقم وصول کرلیتے تو پھر کہتے میا ں تم تو شاعری سے کوئی رغبت ہی نہیں رکھتے پھر یہ کتاب تمہارے کس کام کی۔ لاؤ کتاب مجھے واپس کردو۔۔ بقول کسے جیلانی صاحب نے ۹۹۹ کتابوں سے اتنی رقم نہیں کمائی جتنی اپنے مجموعہ کی آخری جلد سے کمالی۔۔ خیر یہ لطیفہ تو لطیفے کی حدتک تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جیلانی صاحب اپنی ادبی کتابوں کی اشاعت کے معاملے سے ہی لاتعلق ہیں۔ ا سکے برعکس وہ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں کی اشاعت میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ اس میں انہیں مناسب معاوضہ اور خاطر خواہ رائلٹی مل جاتی ہے۔ دراصل غلام جیلانی اصغر اپنے دوبزرگوں کی دو مختلف نصیحتوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ماں نے تاکید کی تھی کہ لفظ خون کی صداقت کے سچے امین ہونے چاہئیں۔ باپ نے سمجھایاتھاکہ اگر لفظ لکھوگے تو بھوکے مروگے۔ سوجیلانی صاحب نے اپنی ادبی تخلیقات کی صورت میں ماں کی نصیحت پرعمل جاری رکھااور ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں کی صورت میں باپ کی تنبیہ کو مدِ نظررکھا۔یوں ماں باپ کے الگ الگ اور متضادفکر کے تھپیڑوں میں پرورش پانے والا ننھا جیلانی آج بھی کشمکش میں مبتلاہے اورماں باپ دونوں کو راضی رکھنے کی کوشش میں لگاہوا ہے۔
۔۔۔۔جیلانی صاحب میں جوذہانت، حاضر جوابی اور شگفتگی پائی جاتی ہے وہ عصر حاضر کے اردو کے چند ادیبوں کوہی نصیب ہوئی ہے۔ ان کے طنز میں زہریلاپن اور مزاح میں پھکڑپن نہیں ہوتا۔ کئی بار خود کو ہی اپنے جملوں کی زدپر رکھ لیتے ہیں۔ ایک دفعہ وزیرآغا کے ہاں قدرے تاخیر سے پہنچے۔ آتے ہی معذرت کرنے لگے کہ خضاب لگارکھاتھا اس لئے دیر ہوگئی۔ پھر خود ہی کہنے لگے یارداڑھی سیاہ ہونے نہ ہونے سے کیافرق پڑتاہے۔ بس بندے کا دل سیاہ ہوناچاہئے۔
۔۔۔۔جب جیلانی صاحب تلہ گنگ کالج کے پرنسپل بن کر گئے وہاں اسلامیات کے ایک پروفیسر کوان کی آمد گراں گزری کیونکہ وہ خود پرنسپل بننے کے خواہاں تھے۔ جیلانی صاحب کی خوبصورت اور چھوٹی سی داڑھی کے باعث پروفیسر صاحب مذکورنے طلبہ میں یہ بات پھیلادی کہ جیلانی صاحب قادیانی ہیں۔ طلبہ کی کھسر پھسر جیلانی صاحب تک پہنچی تو انہوں نے دو لڑکوں کوروک لیااورپوچھاکہ کیا مسئلہ ہے؟ لڑکوں نے ہچکچاتے ہوئے کہا:
سر!سناہے آپ قادیانی ہیں؟
جیلانی صاحب نے شگفتگی کے ساتھ جواب دیا:’’ میں قادیانی نہیں ہوں۔ سکھ ہوں بس ذرا داڑھی چھوٹی کرالی ہے‘‘۔ دونوں طالب علم یہ سن کر ہنسنے لگے اور اسی لمحے جیلانی صاحب کے اندرکابارعب پرنسپل باہرآگیا ’’تمہیں یہ بات کس نے کہی ہے؟‘‘
لڑکوں کی ہنسی کو بریک لگ گئی اور بوکھلاہٹ میں انہوں نے پروفیسر موصوف کا نام بتادیا۔ چنانچہ دوسرے دن پھر وہ پروفیسر کالج میں نہیں آسکے۔ ان کے ٹرانسفر آرڈرسرگودھاسے منگواکرراتوں رات ان کے گھر پہنچادیئے گئے۔
۔۔۔۔ایک دفعہ میں وطن عزیز کی تشویشناک صورتحال کاذکر کرکے دکھ کا اظہار کررہاتھا۔ اسی دوران میں نے جیلانی صاحب سے پوچھاجیلانی صاحب اس ملک کاکیابنے گا؟۔۔ جیلانی صاحب بولے یہ سوال صرف تمہارے جیسے بے روزگار یا میرے جیسے ریٹائرڈ لوگ ہی کرسکتے ہیں وگرنہ ہرشخص یہاں جائز ناجائز ہرطریقے سے جائیداد بنانے میں لگاہواہے اور اس کارخیر میں اتنامنہمک ہے کہ اسے یہ سوال سننے کی بھی فرصت نہیں ہے۔۔ من حیث القوم ہم جس حرص و ہوس میں مبتلاہیں جیلانی صاحب کی بات میں اس کی واضح نشاندہی موجود ہے لیکن کسی کو اس پر غور کرنے کی فرصت بھی ہو۔ اب تو مجھے بھی مزید غور کرنے کی فرصت نہیں ہے۔
۔۔۔۔میں نے جیلانی صاحب کو کبھی افسردہ اور غمگین نہیں دیکھا۔ محفلیں ادبی ہوں یا نجی۔۔ جیلانی صاحب روح رواں کادرجہ رکھتے ہیں۔ ان سے مل کر، ان کی باتیں سن کر زندہ رہنے کاحوصلہ ملتاہے۔۔ ان کاجواں سال بیٹا اپنی شادی کے دسویں دن فوت ہوگیاہم لوگ سکتے میں آگئے مگر جیلانی صاحب کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ میں نے تنہائی میں ان کے دکھ کو کریدنا چاہامگر ان پر کچھ اثر نہ ہوااپنے اندر کے دکھ کے طوفان کو اندر ہی سمیٹے ہوئے وہ کسی شانت سمندر کی طرح لگ رہے تھے۔ میں نے زخموں کو چھیڑاتو صرف اتناکہا: مجھے بیٹے کی موت سے زیادہ اپنی بیوہ بہو کادکھ ہے۔میرا بیٹا خدا کی امانت تھا،اس نے لے لیا مگر اس بے چاری کوخدانے کیوں سزادی ہے۔ میرے بیٹے کو خداشادی کے دس دن بعد بلانے کی بجائے شادی سے پہلے ہی بلالیتا۔ اس لڑکی کو توروگ نہ لگتا۔
۔۔۔۔بات پرانی اور پامال سہی مگر پھر بھی حقیقت ہے کہ عموماً محفلوں میں زیادہ ہنسنے ہنسانے والے لوگ اندر سے بہت دکھی ہوتے ہیں۔ اپنے دکھوں کو چھپانے کی کوشش میں وہ لوگوں میں مسرّتیں بانٹتے چلے جاتے ہیں۔ جیلانی صاحب بھی ایسے ہی دکھی مگر زندہ دل انسان ہیں۔ علم و فضل کے لحاظ سے ان کا اپنا ایک مقام ہے۔ ماہر تعلیم کی حیثیت سے ان کا فرمایاہوا مستند ہے۔ ان کے ادبی مرتبے کو مخالفین بھی احترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ان کے متعدد شاگرد ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ اگر لاہور کے بعض ادیبوں کی طرح غلام جیلانی اصغر اپنے وسائل کو بروئے کارلائیں، اپنی پبلک ریلیشننگ سے فائدہ اٹھائیں تو ملک کا سینٹیر بننا ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں اور کچھ بھی نہیں تو اکادمی ادبیات کی چیئرمین شپ توگویا گھر کی بات ہے مگر افسوس کہ وزیرآغا کی طرح غلام جیلانی اصغر بھی بڑے ہی بے نیاز قسم کے انسان ہیں۔ مزید افسوس یہ کہ دونوں صاحبان نے اپنے مزاج کے اثرات مجھ پر بھی مرتب کئے اور یوں مجھے بھی بے نیازی کی دولت بخش کردنیا وآخرت میں خوار کرایاہے۔
۔۔۔۔جیلانی صاحب کے بارے میں جو کچھ میں نے لکھاہے دراصل لکھنے کی کوشش کرناہے۔ یہ ایک ادھورا سا خاکہ ہے۔ بہت ہی ادھورا سا۔۔ مجھے خود احساس ہے کہ جیلانی صاحب کی شخصیت کے ساتھ پورا انصاف نہیں کرسکا۔ جیلانی صاحب قلم کی گرفت میں آئیں تو ان کی شخصیت منعکس ہوسکے۔ وہ تو بس ہوا کے جھونکے کی طرح ہیں۔ اپنے ہونے کا، اپنی موجودگی کا، اپنی خنکی کااحساس تودلاتے ہیں مگر ہاتھوں میں ہاتھ نہیں دیتے۔
شاید میں کبھی اس ادھورے خاکے کو پوراکرسکوں
!
***